جب بی بی سی کو سالانہ 65 ہزار خطوط موصول ہوتے تھے!

ڈیئر سامعین، ناظرین اور قارئین!
نو اکتوبر کو ڈاک کا عالمی دن منایا گیا، اس سلسلے میں آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔
جس ’ڈاک‘ یا خط سے ہم بچپن میں متعارف ہوئے وہ یا تو تین پیسے کے کارڈ پر لکھ کر لال رنگ کے لیٹر بکس میں ڈال دیا جاتا تھا، یا پھر ذرا اہتمام سے کاغذ پہ رقم کر کے اسے تہہ کر کے ایک لفافے میں ڈالا جاتا اور دو آنے کا ٹکٹ لگا کر ڈاک کے حوالے کر دیا جاتا۔

انٹرٹیٹ کے عام ہونے کے بعد کاغذ پر قلم سے خط لکھنے اور لیٹر بکس میں ڈالنے کا رواج اگرچہ کم ہو گیا ہے لیکن ملک کے دور دراز گوشوں میں جہاں انٹرنیٹ تو کیا ابھی بجلی بھی نہیں پہنچی، وہاں کاغذ قلم کی حکومت ابھی تک قائم ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات، بلوچستان کے دور افتادہ دیہات نیز یو پی اور بِہار کے بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں لیکن ہمارے لسنرز ٹرانسسٹر میں چار سیل ڈال کر اپنے پسندیدہ پروگرام سنتے ہیں اور پھر پوسٹ کارڈ کے ذریعے ہمیں اپنے ردِ عمل سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں ہمیں جو لوگ بہت باقاعدگی سے خط لکھتے ہیں ان میں جیکب آباد کے اسلم بروہی کا نام سرِ فہرست ہے۔ ان کے علاوہ ملتان کے محمد اسلم آرزو، پشکان کے رحیم بخش جاوید، کُنری سندھ کے چوون کمار کولھی، گوٹھ کھاڑک کے لیاقت علی کھوسو، گوٹھ صالح آباد کے مرچو مل کٹاریہ، فیض گنج کے محمد عثمان بلوچ، نوشہرو فیروز کے حاکم علی کھنڈ، لودھراں کے ناصر محمود عمران اور بورے والا کے رانا طارق جاوید کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

یہ لوگ نہ صرف ہمارے پروگراموں پر سیر حاصل تبصرے کرتے ہیں بلکہ ہمیں اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازتے ہیں، اور ایک ایسے زمانے میں جب خط نویسی کی کلاسیکی روایت دم توڑ چکی ہے، یہ لوگ کاغذ اور قلم تھامے ایک پرانی رسم کو نباہنے کے لیے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں۔

عزیز قارئین، سامعین اور ناظرین!
آپ میں جو ابھی نوجوان ہیں انہیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سن ستر اور اسی کی دہائیوں میں بی بی سی ارود سروس کے لندن آفس کو سالانہ ساٹھ سے پینسٹھ ہزار خطوط موصول ہوتے تھے جن کو چھانٹنے اور مرتب کرنے کے لیے پانچ افراد کا کُل وقتی عملہ تعینات تھا اور بُش ہاؤس سے کچھ فاصلے پر ایک الگ دفتر اسی کام کے لیے مخصوص تھا۔

ہمارے موجودہ مکتوب نگاروں میں ایک اہم نام محمد یعقوب صابر کا بھی ہے جو کہ خوش خطی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور صحتِ زبان پر بہت اصرار کرتے ہیں۔ ہماری نشریات میں جو فقرے اور جملے انہیں قواعد کی رُو سے درست معلوم نہیں ہوتے، ان کے بارے میں وہ اپنی خوبصورت لکھائی میں ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے رہتے ہیں۔

ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر ہم یعقوب صابر صاحب اور ان دیگر مکتوب نگاروں کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو اپنا قیمتی وقت صرف کر کے خطوط کے ذریعے ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔
آپ بھی ہم سے رابطہ کرنا چاہیں تو ہمارا ڈاک کا پتہ ہے:
پوسٹ بکس 3101، اسلام آباد
خیر اندیش،
عارف وقار