صحافی سنسرشپ کے خلاف سراپا احتجاج، لیکن میڈیا پر کوئی پابندی نہیں‘

 

 

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی صحافی یا صحافتی تنظیم کی جانب سے سنسرشپ کی کوئی شکایت نہیں آئی ہے۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا بہت طاقتور ہے۔ ‘یہاں تو یہ تاثر ہے کہ پاکستان کے میڈیا پر کوئی ریگولیشن ہے ہی نہیں، اس لیے یہ تاثر غلط ہے کہ میڈیا سنسرشپ کا شکار ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان میں صحافتی تنظیموں نے منگل کے روز ملک بھر میں غیر اعلانیہ سنسرشپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کے دوران جہاں صحافیوں کو ملازمتوں اور تنخواہوں کے حوالے سے درپیش مسائل پر بات کی جا رہی تھی، وہیں ملک میں صحافت پر لگی مبینہ اور غیر اعلانیہ سنسرشپ کے خلاف بھی احتجاج کیا جا رہا تھا۔

 

 

 

لیکن وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں یہ احتجاج ان اداروں کے خلاف ہے جو ملازمین کو نکال رہے ہیں۔ ‘میں نہیں جانتا کہ سنسرشپ ہے، کس نے لگائی ہے؟ وہ ہمارے پاس آئیں، ہمیں بتائیں، ہم یقینی طور پر یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔’

ان کا کہنا ہے کہ میڈیا ہاؤسز یا صحافتی تنظیمیں ان کے پاس سینسرشپ کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں لائے، ‘ہمارے پاس ایسی کوئی درخواست نہیں آئی۔ سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے میڈیا کو دعوت دی تھی کہ اگر میڈیا کو سنسرشپ کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں بتایا جائے۔ لیکن میڈیا نے نہ تو ہمیں ہمارے ساتھ مسئلہ اٹھایا ہے نہ ہی سینیٹ میں۔ مجھے تو نہیں پتا کہ وہ کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔’

پاکستان طویل عرصے تک صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک رہا ہے۔ پہلے صحافیوں کے قتل اور ان کے اغوا جیسی وجوہات خبر کی راہ میں حائل تھیں، اب غیر اعلانیہ سنسرشپ کی شکایت ہے۔
ملک میں صحافی کبھی خبر اور کالم نہ چھپنے، اخبار کی ترسیل متاثر ہونے، نیوز چینلز کی کیبل پر ردو بدل یا آف ایئر کرنے اور اشتہارات نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کو بعض الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال اور چند موضوعات پر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں۔

اس سوال پر پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ کہتے ہیں کہ سینسرشپ خود ساختہ بھی ہے اور ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بھی ہے۔
‘ایک رپورٹر خبر فائل کرے تو اس کی خبر نہیں چھپتی، ان کا ادارہ روکتا ہے۔ ایک اینکر پروگرام کرتا ہے، اس کا پروگرام نہیں چلتا، ان کا ادارہ روک لیتا ہے۔ تو ہمارے پاس شکایت آتی ہے کہ ادارہ روک رہا ہے۔ ادارے سے کون رکوا رہا ہے؟ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ مالکان کا صحافتی آزادی سے کوئی تعلق نہیں، وہ اپنے دیگر کاروبار کے تحفظ کے لیے خود ساختہ سیلف سنسرشپ کرتے ہیں۔’

لاہور میں ہونے والے احتجاج میں پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی شرکت کی اور صحافیوں کے حقوق کے حصول میں امداد کی یقین دہانی کروائی۔ انھوں نے کہا کہ دو ماہ سے زیادہ اگر کوئی ادارہ صحافیوں کی تنخواہ روکے گا تو اس کے اشتہارات بند کر دیئے جائیں گے۔

تاہم ایک موقع پر جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں میڈیا پر کوئی سنسرشپ نہیں، جس پر وہاں موجود صحافیوں نے اعتراض بھی کیا اور اس بات کی تردید کی۔
تاہم وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا کی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘قانون سازی کا مطلب پابندیاں لگانا نہیں ہے، پابندی سینسرشپ ہے۔ ہم سینسر شپ نہیں کر رہے، ہم قانون سازی کر رہے ہیں۔ اور ہمیں سب سے زیادہ تشویش نفرت انگیز مواد پر ہے۔’

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر ‘لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں، ان کے خلاف شدت پسندانہ مہم چلائی جاتی ہے، ذات پر حملے کیے جاتے ہیں لیکن لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیے اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔’

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے لیے پی ٹی اے، نیوز چینلز کے لیے پیمرا جبکہ اخبارات کے لیے پریس کونسل جیسے ادارے موجود ہیں، لیکن اب تینوں کو ضم کر کے ‘پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جس سے متعلق جلد ہی تمام سٹیک ہولڈرز کو آگاہ کیا جائے گا‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا خود ان کی اپنی جماعت کے جعلی اکاؤنٹس بھی ختم کیے جائیں گے، فواد چودھری نے کہا کہ ‘جب قانون سازی ہو گی تو قانون کا اطلاق تمام جعلی اکاؤنٹس کے خلاف ہو گا۔’
خیال رہے کہ وزارت اطلاعات نے فیک نیوز سے نمٹنے کی غرض سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حال ہی میں ایک اکاؤنٹ بنایا لیکن 24 گھنٹوں میں ہی اس اکاؤنٹ کے بھی جعلی اکاؤنٹ منظر عام پر آگئے تھے۔