نیب کی شکایت حکومت سے یا سپریم کورٹ سے؟

 

 

پاکستان مسلم لیگ ن نے الزام عائد کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے۔
حکمران جماعت کا موقف ہے کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نیب اگر ان کے ماتحت ہوتا تو وہ ابھی تک 50 افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کر چکے ہوتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیب واقعی ایک خود مختار ادارہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے یا وہ وزیر اعظم کے احکامات پر عمل کرتا ہے؟
یہ بھی پڑھیے

 

 

 

1996 میں جب صدر فاروق لغاری نے جب بےنظیر بھٹو کی ‘بدعنوان’ حکومت کو ختم کیا تو انھوں نے بدعنوان عوامی نمائندوں کے احتساب کے لیے احتساب آرڈیننس 1996 نافذ کیا۔ جب چند ماہ بعد میاں نواز شریف ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ مسند اقتدار پر بیٹھے تو انھوں نے اس آرڈیننس کو قانون میں بدل کر اپنے دستِ راست سینیٹر سیف الرحمٰن کو احستاب بیورو کا سربراہ مقرر کیا جس نے سابقہ حکومت کی کرپشن کو سامنے لانے کےلیے اسی احتساب ایکٹ کے تحت مقدمات تیار کیے۔

احتساب بیورو کی ساری توجہ پچھلی حکومت کے عہدیداروں پر رہی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف احتساب ریفرنس پیش کیے۔
جب جسٹس قیوم کی سربراہی میں دو رکنی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو ایس جی ایس اور کوٹیکنا مقدمے میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی تو اس وقت بھی ایسے الزامات سامنے آئے کہ قومی احتساب بیورو وزیر اعظم کے احکامات پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

کچھ عرصے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگ میں اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو تقویت ملی جس میں احتساب بیورو کے سربراہ احتساب عدالت کے جج کو ہدایت دیتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسی پس منظر میں بےنظیر بھٹو اور آصف زرداری کےخلاف سزا کو معطل کر دیا اور احتساب عدالت کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمے کو ازسر نو جائزہ لے۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ‘ان دی لائن آف فائر’ میں لکھا کہ جب جنرل عزیز اور جنرل محمود کو یہ خبر ملی کہ ان کے آرمی چیف کی تذلیل کی جا رہی ہے تو وہ ٹینس کا میچ ادھورا چھوڑ کر اپنے فوجی وقار کو بچانے کے لیے نکل پڑے۔

فوجی جرنیلوں نے چند گھنٹوں میں ہیوی مینڈیٹ رکھنے والے وزیر اعظم کو مری ریسٹ ہاؤس میں پہنچا کر فوج کے سربراہ کو ملک کا چیف ایگزیکٹیو بنا دیا۔
جنرل مشرف نے احتساب بیورو کا نام تبدیل کر کے اسے قومی احتساب بیورو بنایا جس کی سربراہی ایک حاضر سروس فوجی جرنیل کے سپرد کی گئی۔ فوجی حکمران نے اسی قانون کے تحت نواز شریف کےخلاف مقدمات قائم کیے اور وہ بالآخر فوجی حکمران سے معاہدہ کر کے اپنے خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ گئے۔

جب جنرل پرویز مشرف نے سیاسی حمایت کے لیے ایک سیاسی جماعت بنانی چاہی تو اسے نیب کا سہارا لینا پڑا اور نیب کی مدد سے ہی مسلم لیگ ق وجود میں آئی جس کی سربراہی نواز شریف کے سیاسی رفیق چوہدری شجاعت حسین کے حصے میں آئی۔

نیب کا ادارہ جنرل مشرف کے اقتدار سےعلیحدگی کے بعد بھی قائم رہا۔ البتہ اس کو آزاد اور غیر جانبدار بنانے کےلیے اس کے سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ تبدیل کیا گیا جس کے تحت نیب کے سربراہ کی تعیناتی وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے ہی ممکن ہے۔ نیب کے سربراہ کی مدت ملازمت کو تین سال مقرر کیا گیا اور اس کو ہٹانے کے لیے وہی طریقہ وضح کیا جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے آئین پاکستان میں دیا گیا ہے۔

پاناما پیپرز میں پاکستان کےحکمرانوں کے نام آنے کے بعد جب نیب نے کوئی کارروائی نہ کی تو نیب پر الزام لگا کہ وہ حکومت کے زیر اثر ہے۔ ایک موقع پر جب سپریم کورٹ نے نیب کے سربراہ کو عدالت میں بلا مقدمہ دائر کرنے کا کہا تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔

فوجی دور میں ملک سے باہر بییٹھ کر ملک کی سیاسی رہنماؤں نے ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے میثاق جمہوریت نامی ایک معاہدے پر دستخط کیے اور اسی معاہدے میں یہ طے پایا کہ نیب کو ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن جمہوری دور شروع ہوا اور آئین میں متعدد ترامیم بھی ہوئیں لیکن نیب کو ختم نہ کیا جا سکا۔

گذشتہ دس برسوں میں جمہوری حکومتیں نیب کو ختم کرنے کے عزم کے باوجود اسے ختم نہ کر سکیں اور اب جب عمران خان بدعنوانی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کر کے مسند اقتدار پر بیٹھ چکے ہیں، تو اس ادارے کی آزادی پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔

جب فوجی حکمران پرویز مشرف نے احتساب بیورو کو تبدیل کر کے اسے نیب میں بدلا تو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس قانون کو اس بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا کہ یہ قانون آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

سپریم کورٹ نے نہ صرف اس قانون کو جائز قرار دیا بلکہ اس کے سربراہ کے لیے ایسی شرائط رکھیں جن پر کوئی جج ہی پورا اتر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب قانون کے تحت ہونے والے ‘پلی بارگین’ کو بھی جائز قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے اس قانون کو ملک میں ‘گڈ گورننس’ کے لیے ضروری قرار دیا۔

تو پھر مسلم لیگ ن کو نیب کی شکایت کس سے کرنی چاہیے، حکومت سے یا سپریم کورٹ سے؟