دبئی ٹیسٹ: بلال آصف کی چھ وکٹیں، پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط

 

 

پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا میچ کھیلنے والے آف سپنر بلال آصف نے آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں جاری ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط کر لی ہے۔
پاکستان کی پہلی اننگز کے سکور 482 کے جواب میں آسٹریلیا نے بہترین آغاز کیا اور پہلی وکٹ پر 142 رنز کی شراکت جوڑی لیکن اس کے بعد محمد عباس اور بلال آصف نے تباہ کن کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 60 رنز عوض آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو 202 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔

محمد عباس نے نہایت نپی تلی بولنگ کی اور چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبو کرنے والے آرون فنچ نے 62 رنز اور ان کے ساتھی اوپنر عثمان خواجہ نے 85 رنز بنائے لیکن دیگر تمام بلے باز مکمل طور پر ناکام رہے اور پاکستان کو 280 رنز کی سبقت دے بیٹھے۔
دن کے اختتام تک پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 45 رنز بنائے لیکن اس اثنا میں وہ تین وکٹیں بھی گنوا بیٹھے۔

پاکستان کے 33 سالہ آف سپنر بلال آصف کی ٹیم میں شمولیت پر کئی لوگوں نے سوالات اٹھائے تھے لیکن انھوں نے کھانے کے وقفے کے بعد شاندار بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا اور شاہد آفریدی کے بعد پاکستان کی جانب سے پہلے سپنر بن گئے جنھوں نے اپنے ڈیبو پر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

یاد رہے کہ لیگ سپنر شاہد آفریدی نے 20 قبل کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں آسٹریلیا کے ہی خلاف اپنے پہلے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
آج جب دن کا آغاز ہوا تو آسٹریلوی اوپنرز نے 30 رنز بغیر کسی نقصان کے اپنی اننگز دوبارہ شروع کی اور بڑے اطمینان سے پاکستانی اٹیک کا سامنا کیا اور لنچ تک سکور 137 پہنچا دیا۔
اس موقعے پر لگ رہا تھا کہ پاکستان کے پاس 46 اوورز گزرنے کے بعد کوئی گر موجود نہیں اور آسٹریلوی بلے باز پاکستانی سکور کے قریب پہنچ جائیں گے لیکن سرفراز احمد نے اچھی کپتانی کرتے ہوئے محمد عباس کو واپس بلایا جنھوں نے آرون فنچ کو آؤٹ کر دیا۔

اس وکٹ کے بعد ایسا لگا کے پچ ہی بدل گئی ہو اور ہر بال پر وکٹ گرنے کا امکان پیدا ہوگیا۔ بلال آصف نے اس دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریلیا کی اگلی چار وکٹیں حاصل کیں اور چائے کے وقفے تک مہمان ٹیم کا سکور پانچ وکٹ کے نقصان پر 180 رنز تک تھا۔

چائے کے وقفے کے بعد وکٹیں گرنے کا تسلسل جاری رہا اور 22 رنز بعد ہی آسٹریلیا کی پوری اننگز تمام ہو گئی۔
پاکستان نے جب دوسری اننگز شروع کی تو پہلی وکٹ کے لیے محمد حفیظ اور امام الحق نے 37 رنز کی شراکت جوڑی اور اس موقع پر لگ رہا تھا کہ شاید دن کے اختتام تک پاکستانی اوپنرز ساتھ رہیں گے لیکن پھر پچ کی اونچ نیچ نے بیٹنگ کی دشواری واضح کی اور پہلے محمد حفیظ اور اس کے بعد نائٹ واچ مین بلال آصف یکے بعد دیگرے پویلین واپس لوٹ گئے۔

دن ختم ہونے میں چار اوورز قبل اظہر علی بیٹنگ کے لیے آئے تو پاکستان کی کوشش تھی کہ مزید وکٹیں نہ گریں لیکن سپنر جان ہالینڈ نے اس خواب کو پورا ہونے نہ دیا اور چار رنز بنا کر اظہر علی بھی آؤٹ ہو گئے جس کے بعد دن کا کھیل ختم ہو گیا۔

لیکن 325 رنز کی سبقت سے پاکستان ابھی بھی میچ پر حاوی ہے اور اگر پچ کے حالات ایسے ہی رہی تو 400 سے زیادہ کا ہدف آسٹریلوی بلے بازوں کے لیے کافی دشوار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

 

اس میچ میں پاکستان کی پہلی اننگز دوسرے دن کے آخری سیشن میں 482 رنز پر مکمل ہوئی تھی۔ اس اننگز میں دو بلے بازوں نے سنچریاں اور دو نے ہی نصف سنچریاں بنائیں۔
پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکورر محمد حفیظ رہے جنھوں نے 126 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی سنچری بنانے والے حارث سہیل 110 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
نصف سنچریاں بنانے والے بلے بازوں میں اوپنر امام الحق کے علاوہ اسد شفیق شامل تھے جنھوں نے بالترتیب 76 اور 80 رنز کی اننگز کھیلیں۔
پہلی اننگز میں پاکستان کی دو بڑی شراکتیں قائم ہوئیں۔ حفیظ اور امام الحق نے 205 رنز جبکہ حارث سہیل اور اسد شفیق کی 150 رنز کی شراکت نے ہی پاکستان کو ایک بڑے مجموعے تک پہنچنے میں مدد دی۔
پیٹر سڈل پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے سب سے کامیاب بولر رہے اور انھوں نے تین وکٹیں لیں۔ ان کے علاوہ نیتھن لائن نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی جانب سے اس میچ میں بلال آصف کو ڈیبو کروایا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے تین کھلاڑیوں نے اپنا ڈیبو کیا ہے۔
ان میں ٹریوس ہیڈ اور آرون فنچ محدود اوورز کی کرکٹ میں آسٹریلوی ٹیم کے رکن رہے ہیں جبکہ آل راؤنڈر مارنس لابوس چین بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔