ٹائپ 2 ذیابیطس کی علامات مرض سے برسوں پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں‘

 

 

محققین کا کہنا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تشخیص سے برسوں پہلے اس کے لاحق ہونے کے خطرے کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق خون میں چینی کی مقدار میں تیزی سے اضافہ اور انسولین کی مزاحمت جیسی ذیابیطس کی ابتدائی علامات مرض کے باقاعدہ آغاز سے کئی سال پہلے ایسے متعدد افراد میں دیکھی گئی ہیں جنھیں بعد میں پری ڈائیبٹیز ہوئی جسے عموما ٹائپ ٹو ذیابیطس کا سبب سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

 

 

 

محققین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابیطس کو پنپنے سے روکنے کا عمل زندگی میں بہت پہلے شروع کر دیا جانا چاہیے۔
یہ جاپانی تحقیق 2005 سے 2016 کے درمیان کی گئی اور اس میں 27 ہزار ایسے افراد کے باڈی ماس انڈیکس، نہار منہ خون میں شوگر کی مقدار اور انسولین کی مزاحمت کی جانچ کی گئی جو ذیابیطس کے مریض نہیں تھے۔
ان افراد کی عمر 30 سے 50 برس کے درمیان تھی اور ان میں سے زیادہ تر مرد تھے۔
انسانی جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے جسم کے خلیے انسولین ہارمون کے تئیں مناسب ردعمل نہیں دیتے اور اس کا نتیجہ کئی خرابیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
بڑھے ہوئے باڈی ماس انڈیکس کو ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے شرکا کو 2016 یا اس وقت تک زیرِ نگرانی رکھا گیا جب تک ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تشخیص نہیں ہو گئی۔ اس تحقیق کے دوران کل 1067 افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔
محققین نے پتہ چلایا کہ تشخیص سے دس برس قبل بھی ان افراد کے خون میں چینی کی مقدار صبح کے وقت زیادہ تھی اور ان کا جسم قدرتی انسولین سے مزاحم تھا جبکہ ان کا بی ایم آئی بھی زیادہ تھا۔
یہی علامات ایسے افراد میں بھی پائیں گئیں جو پری ڈائیبٹیز کا شکار ہوئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنھیں ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے ان میں سے زیادہ تر پری ڈائبٹیز مرحلے سے گزرتے ہیں سو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابیطس کے خطرے سے بیماری کے لاحق ہونے سے دو دہائی قبل بھی آگاہ ہوا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق یورپی ایسوسی ایشن فار دی سٹڈی آف ڈائبیٹیز کانفرنس میں پیش کی گئی اور جرنل آف اینڈوکرائن سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے۔
محققین کی ٹیم کے سربراہ اور ماٹسوموٹو جاپان کے ایزاوا ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ہیرویوکی سیجساکا کا کہنا ہے کہ ’چونکہ پری ڈائبیٹیز کے بعد ذیابیطس کو روکنے میں زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے اس لیے اس کی علامات سامنے آنے سے کہیں پہلے ہمیں اس پر قابو پانا چاہیے تاکہ مستقبل میں یہ ذیابیطس کی مکمل شکل نہ دھار سکے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے لیے ضروری ہے کم عمر افراد پر تجربہ کیا جائے جو چاہے دوا کا ہو یا طرزِ زندگی کی تبدیلی کا۔‘
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد جنھیں مستقبل میں ٹائپ 1 ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہوتا ہے انھیں ابتدا میں غلطی سے ٹائپ 2 کا مریض سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق 39 فیصد ایسے افراد جن کی عمر 30 برس سے زیادہ تھی اور جنھیں ٹائپ 1 ذیابیطس تھی انھیں فوری طور پر انسولین نہیں تجویز دی گئی۔
خیال رہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس میں مریض کو فوراً انسولین دی جاتی ہے جبکہ ٹائپ 2 میں اکثر مریض کی خوراک اور ورزش کی مدد سے خون میں چینی کی مقدار کم کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔