عورتیں آزاد ہو گئی ہیں، پچھتانے کا وقت آ گیا ہے!

 

 

‘۔۔۔ کی ڈائری سے ایک ورق’، بچپن سے اس عنوان کے تحت عجیب ہذیانی تحریریں اردو اخبارات و رسائل میں پڑھتے آئے ہیں۔ ‘شیطانوں کی ڈائری’ اور ‘ڈائری آف اے ومپی کڈ ‘ بھی پڑھی۔ اکثر ڈراموں، فلموں اور ناولوں کے پلاٹ میں جہاں کہانی جھول کھا جاتی تھی، وہیں کسی کی ڈائری کسی کے ہاتھ لگ جاتی تھی۔

ڈائری کا ہاتھ لگنا ہوتا تھا کہ ساری گتھیاں سلجھ جاتی تھیں اورسب ٹوٹے ہوئے دل اور بدگمانی کے بوجھ سے رنجور روحیں کھلکھلا اٹھتی تھیں، پھول کھل جاتے تھے اور بادلوں پہ بیٹھے ننھے ننھے معصوم فرشتے اپنے سنہرے مکٹ سنوارتے، بربط بجاتے، فانی انسانوں کے لافانی انجام کے پاکیزہ نغمے گاتے تھے۔

ڈائری کے اس ہفت رنگ استعمال سے مرعوب ہو کے، خود بھی ڈائری لکھی مگر حسرت ہی رہی کہ ڈائری میں لکھی عشقیہ اور ڈیڑھ عشقیہ غزلیں اور نظمیں، اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں۔ خود ہی منہ پھوڑ کے سنائیں اور سننے والا ذرا بھی مرعوب نہ ہوا۔ اس کے بعد ڈائری سے دل ایسا کھٹا ہو اکہ بیس سال پلٹ کے ڈائری کی شکل نہ دیکھی۔

سال کی ابتداء میں ادھر ادھر سے جو ڈائریاں اکٹھی بھی ہو جاتی تھیں، ان میں یا تو دھوبی کا حساب لکھا، یا پروڈیوسروں کی کہہ مکرنیاں، تاآنکہ سند رہیں اور بوقتِ ضرورت (کوسنے کے) کام آئیں۔
اس سال مگر، ڈائری کا ایک ایسا ورق سامنے آ یا کہ ہا سا ہی نکل گیا۔ یہ ڈائری ایک ایسے ادارے کی ہے کہ پہلے تو یقین ہی نہ آ یا کہ سچ ہے، مگر خبر دینے والا ادارہ بھی کچھ کم مؤقر نہ تھا۔ چنانچہ میں نے اسی اصول کے مدِ نظر جس کے تحت، عورت پہ لگے الزام کو سچ ماننے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس ورق پہ لکھی تحریر کا ذمہ دار اس ادارے کو تسلیم کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

 

 

تحریر کیا ہے، کوزے میں دریا اور قطرے میں قلزم سمویا گیا ہے۔ عین اسی طرح جب، ناول کی کہانی کا پلاٹ جھول کھا کے ایک طرف جھکا جارہا ہوتا ہے اور کسی کی ڈائری سامنے آ جاتی ہے، اسی طرح معاشرے کے حالات کی الجھے ہوئے پلاٹ کو اس ورق پہ لکھی ایک سطر نے سلجھا دیا۔

لکھا ہے: ‘جس قوم نے اپنی عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پہ پشیمان ہوئی’ ۔جہاں تک میرا ناقص علم کام کرتا ہے، یہ جملہ نہ تو کسی الہامی کتاب کا ہے اور نہ ہی کسی کا قولِ زریں۔ اس جملے کاماخذ کون ہے؟ اس بارے میں راوی خاموش ہے۔ (راوی ایسے معاملوں میں اکثر خاموش ہی رہتے ہیں)۔

پہلی بات تو یہ کہ قوم سے مراد، ایک خطے یا نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں اور افراد میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آزادی کون کس کو دے رہا ہے اس کا تعین کون کرے گا؟ پاکستان میں جمہوریت قائم ہے اور اس حساب سے اکثریت کا فیصلہ مانا جاتا ہے۔ عورتیں آبادی کی اکثریت ہیں۔ خیر سے اقلیت ہماری آ زادی کا تعین کیسے اور کیونکر کر سکتی ہے؟

لیکن اس جملے سے ٹپکتی حسرت پہ نظر کیجیے تو اس میں آپ کو ایک گہرا،’ فرائیڈین’ دکھ نظر آئے گا۔ عورت تو آزاد ہی پیدا ہوئی تھی اور آزاد ہی ہے لیکن اسے لونڈی یا کنیز کے روپ میں دیکھنے والے پچھتاتے ہیں اور سوچتے ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب یہ جنس بازار میں بکتی تھی؟

یہ بھی پڑھیے

 

کہانی کا جھول صرف ایک جملے سے دور نہیں ہوا، کئی اور جملے بھی تھے جن میں سے ایک جملہ مزید قابلِ توجہ ہے،’عورت کے ساتھ زندگی بسر کرنامشکل ہے، مگر عورت کے بغیر زندگی گزارنا اوربھی مشکل’۔ اب کی بار ہاسا جو نکلا تو نکلتا ہی چلا گیا۔ یااللہ! یہ کون لوگ ہیں جو اپنے دکھ یوں سرِ عام ڈائریوں کے اوراق پہ لکھتے پھرتے ہیں؟

میں تو سمجھا کرتی تھی کہ ہمارے ہاں صرف شعرا کے حواس پہ عورت سوار ہے مگر یہ حکمرانی تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتی ہے۔ بظاہر خوش باش، ہنستے کھیلتے پاکستانی مردوں کے دلوں کے پھپھولے جو پھوٹے تو ڈائری کے ان اوراقِ پریشاں پہ آکے پھوٹے۔ تاڑنے والے اس علامتی کہانی کے سب جھول، بنت کی درزیں اور کونے بھانپ گئے۔

ان آدھے ادھورے، سسکتے ہوئے جملوں کے جواب میں امرتا پریتم کا صرف ایک جملہ ہی کافی ہے: ‘ہمارے ہاں مرد نے ابھی عورت کے ساتھ صرف سونا ہی سیکھا ہے جاگنا نہیں۔’ جاگیے! عورتیں آزاد ہو گئی ہیں، پچھتانے کا وقت آ گیا ہے!