سعودی ولی عہد محمد بن سلمان: امریکہ کے بغیر بھی سعودی عرب کا وجود رہا ہے‘

 

 

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تنبیہ کو مسترد کر دیا ہے کہ ملک کی قیادت امریکی فوجی سہارے کے بغیر ‘دو ہفتے’ بھی نہیں چلے گی، اور کہا ہے کہ ان کے ملک کا وجود امریکہ کے بغیر بھی رہا ہے۔

امریکی اخبار بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ولی عہد کا کہنا تھا کہ ریاض واشنگٹن کو سعودی عرب کی سکیورٹی کے لیے احسان مند نہیں ہے اور ‘ہم نے امریکہ سے اسلحہ خریدا ہے، یہ ہمیں مفت میں نہیں دیا گیا‘۔

اسی موقعے پر محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ‘مجھے ان کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔’
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوجی امداد کے بغیر سعودی عرب کے شہنشاہ سلمان اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔’
ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ’سعودی عرب کے پاس کھربوں ڈالر ضرور ہیں مگر ہمیں ان سے وہ نہیں ملتا جو ملنا چاہیے‘۔
اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے محمد بن سلمان نے کہا کہ یہ امریکہ اور سعودی تعلقات میں ’99 اچھی چیزوں میں ایک بری چیز ہے۔’

 

 

 

انھوں نے کہا: ‘سعودی عرب امریکہ سے پہلے بھی قائم تھا۔ اس کا قیام 1744 میں عمل میں آیا۔ میرے خیال سے امریکہ سے 30 سال پہلے۔ اور میرا خیال ہے کہ صدر اوباما نے اپنے آٹھ برسوں میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خلاف کام کیا۔ امریکہ ہمارے ایجنڈے کے خلاف تھا مگر پھر بھی ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ بالآخر ہم کامیاب ٹھہرے اور اوباما کی قیادت میں امریکہ ناکام ہو گیا، مثال کے طور پر مصر میں۔’

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ سے ہر چیز پیسوں سے خریدتا ہے، اور جب سے ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں، سعودی عرب نے اگلے دس برسوں تک امریکہ سے اپنی ضرورت کا 60 فیصد اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
33 سالہ سعودی شہزادے نے کہا کہ ٹرمپ کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب نے امریکہ سے 110 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے اور دوسرے دو طرفہ معاہدوں اور سرمایہ کاری کی کل مالیت 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں یہ بھی شامل ہے کہ کچھ اسلحہ سعودی عرب میں تیار کیا جائے گا، جس سے امریکہ اور سعودی عرب میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔
‘اچھی تجارت کا دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا اور یہ معاشی ترقی کے لیے بھی اچھا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ہماری سکیورٹی کا تحفظ بھی ہو گا۔’