وٹامن ڈی: اضافی استعمال ضروری یا پیسے کا ضیاع؟

آپ نے حالیہ خبروں میں سنا ہو گا کہ جدید تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی گولیاں ہڈیوں کی صحت بہتر نہیں کرتیں اور نہ ہی ان سے ہڈی ٹوٹنے سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
دوسری طرف صحت کے حکام کہتے ہیں کہ ہر شخص کو یہ گولیاں لینے پر غور کرنا چاہیے۔
حقیقت کیا ہے؟
وٹامن ڈی سپلیمنٹ ایک عرصے سے بحث کا موضوع ہیں۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور نزلہ زکام سے چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے کہتے ہیں کہ یہ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔
وٹامن ڈی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ جسم کو کتنی کیلشیم اور فاسفیٹ کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں عناصر ہڈیوں، دانتوں اور پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔
جسم میں عام طور پر وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب جلد پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔
لیکن سردیوں کے دنوں میں، خاص طور پر ٹھنڈے ملکوں میں، دھوپ بہت کم پڑتی ہے اس لیے وٹامن ڈی بھی بہت کم بنتی ہے۔ برطانیہ میں ہر پانچواں شخص وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے۔

وٹامن ڈی بعض قسم کی خوراکوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس طرح سے اس کا مکمل حصول مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2016 میں برطانوی حکامِ صحت نے سفارش کی تھی کہ ہر کسی کو اضافی وٹامن ڈی (سپلیمنٹ) لینے پر غور کرنا چاہیے، کیوں کہ بہت سے لوگوں کو اس کی مقررہ یومیہ دس مائیکروگرام نہیں ملتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مشورے کا مقصد ہڈیوں اور پٹھوں کو صحت مند بنانا ہے۔
حالیہ خبروں کا باعث ایک ’میٹا سٹڈی‘ ہے، یعنی پہلے سے کی گئی تحقیق کا نچوڑ۔ اس میٹا سٹڈی میں وٹامن ڈی اور ہڈیوں پر ہونے والی 81 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ معلوم ہوا کہ صحت مند لوگوں کو وٹامن ڈی کی گولیاں لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے اس کے جواب میں کہا کہ اس کی سفارشات اب بھی کارگر ہیں۔
دوسرے ماہرین بھی کہتے ہیں کہ وٹامن ڈی کی گولیاں لینے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہو سکتا ہے جن میں اس وٹامن کی کمی ہو۔
سوسائٹی فار انڈوکرینولوجی کے پروفیسر مارٹن ہیویسن کہتے ہیں: ‘تمام تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وٹامن ڈی اضافی طور پر لینے کا فائدہ صرف اس صورت میں ہے اگر آپ کے اندر پہلے سے اس کی کمی ہو۔’
وٹامن ڈی کی کمی کی طبی تعریف یہ کی جاتی ہے جب کسی کے خون میں وٹامن ڈی کی مقدار 25 نینو مول فی لیٹر سے کم ہو۔
پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق متوازن خوراک اور موسمِ گرما میں دھوپ میں رہنے سے وٹامن ڈی کی مقررہ مقدار حاصل ہو جاتی ہے۔