بھئی! دبئی میں ٹیسٹ جیتنا بھلا کوئی آسان کام ہے؟‘

‘بھئی! دبئی میں ٹیسٹ جیتنا بھلا کوئی آسان کام ہے؟’ یہ الفاظ تھے ایک سابق پاکستانی کپتان کے، جب میں نے گذشتہ سال دبئی میں جاری پاکستان بمقابلہ سری لنکا ٹیسٹ پہ ان سے ماہرانہ رائے دریافت کی۔ خیر اگلے ہی روز پاکستان وہ میچ 68 رنز سے ہار گیا۔

یاد رہے کہ 2015 کے ورلڈ کپ میں جب پاکستان کوارٹر فائنل ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوا تو کئی مبصرین نے ناقص کارکردگی کی توجیہہ یہ پیش کی تھی کہ چار سال تک پاکستان صحرا میں بدووں کے سامنے سست وکٹوں پہ غیرمعیاری کرکٹ کھیلتا رہا تھا تو یہ تو ہونا ہی تھا۔

ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ عرب امارات کی وکٹوں پہ ٹیسٹ میچ جیتنا پاکستان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر پچھلے سال ایک نو آموز سی سری لنکن سائیڈ دو ٹیسٹ کھیلنے آئی اور ہمارے سارے تخمینوں کو بہا لے گئی۔ دنیش چندیمل ہی آوٹ ہو کر نہ دیے۔

اس شکست کو ابھی سال ہی ہوا ہے جو 2009 کے بعد یو اے ای میں پاکستان کی پہلی سیریز شکست تھی۔ گو تب پاکستان پہلی بار مصباح الحق اور یونس خان کے بغیر میدان میں اترا تھا سو وہ دباؤ بھی کہیں نہ کہیں کارفرما رہا ہو گا مگر ایسا ہی دباؤ نو آموز سری لنکن ٹیم پہ بھی ہونا چاہیے تھا جو سرے سے نظر ہی نہ آیا۔

اب مڑ کر دیکھا جائے تو اس وائٹ واش کے دھندلکے میں صرف چند بیانات کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ بولنگ کوچ ایک سپنر تین پیسر کے کمبینیشن پہ ُمصر تھے اور ہیڈ کوچ کہتے تھے کہ ان کی راتوں کی نیند اڑ گئی تھی۔

لیکن اب کی بار یہ ہیڈ کوچ نہیں، کپتان تھے جو کوئی ڈیڑھ ہفتہ پہلے اپنی راتوں کی نیند گنوائے بیٹھے تھے۔ صد شکر کہ وہ نیندیں اڑانے والا ایشیا کپ اب تمام ہو چکا ہے اور اب سرفراز صرف آگے کی سمت دیکھ سکتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بہرطور پچھلے سال سری لنکا کے خلاف چیلنج قدرے مشکل یوں تھا کہ پاکستان کو کنڈیشنز کا کوئی غیر معمولی فائدہ مہیا نہیں تھا، سری لنکنز بھی ایسی ہی کنڈیشنز کے عادی ہیں۔ مگر اب کی بار آسٹریلیا کے خلاف یہی، پاکستان کو سودمند، کنڈیشنز فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

آسٹریلیا چار سال بعد عرب امارات کے دورے پہ آیا ہے اور چار سال گزرنے کے باوجود وہ یادیں سبھی اذہان میں تازہ ہیں کہ کس طرح پاکستان نے آسٹریلیا کو ہزیمت کی دھول چٹائی تھی۔ پہلی بار کلین سویپ کیا تھا۔ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے آسٹریلوی بیٹنگ کے طوطے اڑا دیے تھے۔ مصباح الحق اور یونس خان نے آسٹریلوی بولنگ کا بھرکس نکال دیا تھا۔

آسٹریلیا ہی وہ بالکل موزوں ٹیم ہے کہ جس کے خلاف پاکستان کنڈیشنز کی سودمندی کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکتا ہے کیونکہ سری لنکا کے خلاف پچھلے وائٹ واش کے بعد اب تو تھنک ٹینک کی یہ الجھن بھی دور ہو چکی ہے کہ ایک ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے دبئی میں کتنے پیسرز اور کتنے سپنرز درکار ہوتے ہیں۔

چیمپئینز ٹرافی کی فتح کے بعد سرفراز احمد پہ کچھ ایسا ہنی مون شروع ہوا تھا کہ سری لنکا کی ٹیسٹ سیریز کے سوا ستے خیراں ہی رہیں۔ مگر ایشیا کپ کہ جہاں پاکستان کو واضح فیورٹ سمجھا جا رہا تھا، وہاں وہ اہم ترین مرحلے میں صرف ایک ہی میچ جیت سکا۔ اور وہ جیت بھی چنداں باعثِ فخر نہیں تھی۔

جب نوجوان ٹیمیں فتوحات کے تسلسل سے اچانک ایک ایسی ہزیمت کے سامنے آ ٹھہرتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے، تب سب سے بڑا سوال اعتماد پہ اٹھتا ہے اور سب سے بڑا امتحان قیادت کا ٹھہرتا ہے۔
سرفراز احمد کو چار سال پہلے انہی گراؤنڈز پہ آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ مصباح نے اٹیکنگ کرکٹ کھیل کر وہ سیریز جیتی تھی مگر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ مصباح کی اٹیکنگ کرکٹ کے پیمانے اور پیرائے اس جارحیت سے کہیں مختلف تھے جو موجودہ ٹیم کی پہچان ہیں۔

یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ تب مائیکل کلارک کی ٹیم ڈیرن لیہمین کی کوچنگ میں یکسر جارحانہ کرکٹ ہی کھیلتی تھی مگر اب ٹم پین کی قیادت اور جسٹن لینگر کی کوچنگ میں اس الیون کا انداز جارحانہ نہیں، پراسرار طور پہ دھیما رہے گا۔

ناتھن لیون بھی پچھلے دو سال میں ایشین کنڈیشنز کے کافی بہتر بولر بن چکے ہیں اور مچل سٹارک کے خون کا جوش بھی کم ہو کر یو اے ای کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے پہ آمادہ ہے جہاں اس بار وہ اٹیک کرتے نہیں بلکہ سپنرز کو کندھا دیتے دکھائی دیں گے۔

ایسے میں امتحاں صرف سرفراز کی کپتانی کا ہو گا کہ پچھلے سال سری لنکا کی ٹیسٹ سیریز میں جو دراڑ پاکستان کے ناقابل تسخیر قلعے میں پڑی تھی، اب کی بار وہ بھر پاتی ہے یا شگاف مزید گہرا ہوتا ہے۔