مغربی ممالک کے روس پر گلوبل ہیکنگ کے الزامات

روسی جاسوسوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ دنیا بھر میں سائبر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکہ سات روسی جاسوسوں پر الزام عائد ہے۔
امریکی محکمہِ انصاف کا کہنا ہے کہ جن اداروں کو سائبر حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ان میں کیمیائی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ادارے، امریکی جوہری کمپنی اور اینٹی ڈوپنگ کے ادارے شامل ہیں۔
اس سے پہلے روس نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور اسے مغربی جاسوسوں کا پاگل پن قرار دیا تھا۔
ہالینڈ نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنٹرول کے ادارے کو ہیک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے کیونکہ یہ ادارہ سابق روسی ایجنٹ پر برطانیہ میں ہونے والے کیمیائی حملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

برطانوی حکومت کا الزام ہے کہ روس چار بڑے سائبر حملوں کے پیچھے تھا۔ ان حملوں کا نشانہ روس، یوکرین میں موجود فرمز، یو ایس ڈیموکریٹک پارٹی اور برطانیہ میں ایک چھوٹا سا ٹی وی نیٹ ورک تھا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی، فیفا کی گورننگ باڈی اور امریکہ کی جوہری توانائی کمپنی پر روسی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے حملہ کیا۔
کینیڈا نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ روسی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے کھیلوں کے ایک سینٹر اور مونٹریال میں بین الاقوامی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ڈچ حکام کا کہنا ہے کہ اپریل میں چار مشتبہ افراد سے جو لیپ ٹاپ ملے تھے ان کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ انھیں ملائشیا، برازیل اور سوئٹزر لینڈ میں استعمال کیا گیا تھا۔
روسی وزارت خارجہ نے اس سے پہلے برطانیہ اور ہالینڈ کے الزامات کو مسترد کیا تھا جبکہ گذشتہ روز ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ انھیں ایک اور پروپیگنڈا مہم کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
‘یہ واضح نہیں ہے کہ کون ان بیانات پر یقین کرے گا کہ روسی شہری او پی سی ڈبلیو کو سائبر حملوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ملائشیا کی فلائیٹ ایم ایچ 17 سے متعلق ڈیٹا لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

‘ہر روسی شہری جس کے پاس موبائل ہو اسے جاسوس سمجھا جاتا ہے۔‘
امریکہ کی قومی سلامتی میں نائب اٹارنی جنرل جان ڈمرز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ زیادہ تر حملوں میں کھیلوں سے متعلق اداروں کے خلاف اقدامات کرنا تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے روس نے اپنے کھلاڑیوں سے متعلق ملنے والے شواہد اور پابندی کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ہے۔
نتائج ملنے پر امریکہ نے سات افراد پر فرد جرم عائد کی ہے۔ ان میں سے چار افراد وہ ہیں جنھیں ہالینڈ سے نکالا گیا تھا جبکہ دیگر وہ تھے جنھوں نے سنہ 2016 میں امریکی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے حکام کے اکاؤنٹ ہیک کیے۔

ان پر وائر فراڈ، شناخت سے متعلق تفصیلات کی چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔
یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سات کے سات افراد کا تعلق روس سے ہے اور روس اور امریکہ کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
برطانوی اور ولندیزی سربراہان مملکت نے او پی سی ڈبلیو کے خلاف مبینہ حملے پر کہا کہ یہ ہم سب کو عالمی اقدار تحت تحفظ فراہم کرنے کے خلاف ہے۔
برطانوی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ابھی روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے برطانیہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت کر رہا ہے۔
ادھر یورپی یونین نے بھی ان مبینہ حملوں پر تنقید کی ہے۔

ولندیزی حکام کا کہنا ہے کہ چار مشتبہ افراد کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا مطلب یہ کہ وہ انھیں گرفتار نہیں کر سکتے تھے۔ ان میں آئی ٹی کے دو ماہر بھی شامل تھے۔
ولندیزی انٹیلیجنس ایجنسی کے میجر جنرل اونو ایچلشیم کا کہنا ہے کہ ان چاروں نے ہیگ میں ایک گاڑی لی اور گاڑی میریٹ ہوٹل میں کھڑی کی۔ یہ او پی سی ڈبلیو کے دفتر کے ساتھ تھا۔ انھوں نے اس کے وائی فائی کو ہیک کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کار بوٹ میں موجود آلات کی نشاندہی او پی سی ڈبلیو کے سسٹم میں بھی ہو گئی۔
جب ان چاروں لوگوں کی موجودگی کا پتہ چل گیا تو انھوں نے اپنے ہاتھوں میں موجود موبائل فونز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کا ایک موبائل فون ماسکو میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ملا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ گروپ سوئٹزر لینڈ جانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
بطور ہیکر انھیں ولندیزی انٹیلیجنس ایجنسی نے الیکشی مورینٹز اور ویگنے سربریاکوف کا نام دیا ہے جبکہ ان کے معاون ایجنٹس کو اولیگ ساٹنیکوف اور ایلکسزئی مینن کہا گیا ہے۔
جس وقت روسی آپریشنز کو روکا گیا اس وقت او پی سی ڈبلیو سکرپل کیس کی تحقیقات کر رہا تھا اس کے علاوہ رواں برس اپریل میں شام کے قصبے دوما میں مبینہ طور پر ہونے والے کیمیائی حملے کی تحقیقات بھی کی جا رہی تھیں۔

مسٹر ولسن کہتے ہیں کہ روس کی اشتعال انگیز سائبر مہم میں ہم نے دیکھا ہے کہ روس اپنی پھیلائی گئی خرابی کو ہی صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ولندیزی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کی تحویل سے لیے گئے لیپ ٹاپ برازیل، سوئٹزر لینڈ، ملائشیا میں لیب ٹاپ کو استعمال کیا گیا۔
سفیر ولسن کا کہنا ہے کہ ملائشیا میں سائبر آپریشن میں اٹارنی جنرل اور پولیس کے دفتر اور اس کے ساتھ ساتھ ایم ایچ 17 کی تحقیقات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ولندیزی حکام کے ماتحت ہونے والی تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ وہ میزائل جس نے ایم ایچ 17 کو میزائل مار کر گرا دیا تھا کا تعلق روسی برگیڈ سے تھا۔ لیکن روس نے اس واقعے سے جس میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد ولندیزی باشندوں کی تھی لاتعلقی کا اظہار کیا۔

لیپ ٹاپ سے موصول ہونے والے ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ اسے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوسین میں بھی استعمال کیا گیا۔ وہاں اس کا تعلق واڈا کی ہیکنگ سے جوڑا گیا جس نے روسی کھلاڑیوں کے ڈوپنگ کے معاملے کا انکشاف کیا تھا۔