کیا آپ لال بیگ ڈبل روٹی کھانے کے لیے تیار ہیں؟

اوپر شائع ہونے والی تصویر میں ڈبل روٹی کو دیکھیں۔ یہ ایک عام سی تصویر ہے۔
لیکن اصل میں یہ ڈبل روٹی لال بیگوں سے بنی ہوئی ہے یا یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ لال بیگوں کے آٹے سے بنی ہوئی ہے۔
یہ ڈبل روٹی برازیل کے تحقیق دانوں نے بنائی ہے۔ اس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث خوراک میں کمی اور یہ پیش گوئی کہ عالمی سطح پر جانوروں کے پروٹین کی فراہمی میں کمی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے

اقوام متحدہ کے مطابق 2050 تک کرہ ارض کی آبادی نو اعشاریہ سات بلین ہو جائے گی۔
اقوام متحدہ نے چند کیڑوں کو انسانی غذا کا حصہ بنانے کی تجویز دی ہے۔ کیڑوں میں پروٹین بہت ہوتی ہے، یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں اور قیمت بھی زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں جیسا کہ جنوبی ایشیا کیڑے پہلے ہی سے غذا کا حصہ ہیں۔

لیکن ڈبل روٹی میں استعمال کیے گئے لال بیگ وہ لال بیگ نہیں ہیں جو عام طور پر گندی نالیوں میں پھرتے ہیں۔ برازیل کے تحقیق دانوں نے شمالی افریقہ میں پائے جانے والے لابسٹر لال بیگ کا استعمال کیا ہے۔ یہ لابسٹر لال بیگ امیر لوگ اپنے خاص پالتو جانوروں کو کھلاتے ہیں۔

لابسٹر لال بیگ کی نشو نما آسانی سے اور جلدی کی جا سکتی ہے۔
لال بیگوں کو دو وجوہات کے باعث چنا گیا تھا۔ ایک تو پروٹین ان میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور دوسری جانب یہ لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود ہیں اور انھوں نے ارتقائی عمل میں بھی اپنی جنیاتی خصوصیات کو محفوظ رکھا ہے۔

برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرانڈ کی فوڈ انجینیئر اندریسا جینزن کا کہنا ہے ’ان میں کچھ تو خاص ہو گا کہ انھیں ارتقائی عمل سے گزرنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
اندریسا جینزن نے اپنی ساتھی لورین مینیگن کے ساتھ مل کر لال بیگوں کا آٹا تیار کیا۔ ان لال بیگوں کی قیمت 51 ڈالر فی کلو ہے۔
اس ڈبل روٹی میں صرف 10 فیصد لال بیگوں کا آٹا استعمال کیا گیا ہے جس سے پروٹین میں 133 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایک عام ڈبل روٹی میں

گرام پروٹین ہوتی ہے جبکہ 10 فیصد لال بیگ کے آٹے کے باعث اِس ڈبل روٹی میں

گرام پروٹین ہے۔

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ اس ڈبل روٹی کو بنانے کی ترکیب میں چکنایت کی مقدار کو بھی 68 فیصد کم کیا گیا ہے۔‘
اندریسا کے بقول اس ڈبل روٹی اور عام ڈبل روٹی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ’ہم نے اس کی ساخت، خوشبو، رنگ اور ذائقے کا تجزیہ کیا۔ کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ کھانے والوں کو اس کا ذائقہ مونگ پھلی جیسا لگے۔‘

اینیو ویئرا غذائیت کے پروفیسر ہیں ان کا کہنا ہے کہ بہت سے جانور ہیں جن کو غذا میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جھینگر، بھڑ، چینوٹیاں، تتلیاں اور بچھو۔
’ہمیں کیڑوں کو غذا کے طور پر قبول کرنے میں مسئلہ ہے لیکن زیادہ تر کیڑوں کو پیس دیا جاتا ہے اور ہم کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ عام خوراک کے مقابلے میں کیڑوں کو کھانے سے موحولیات پر کم فرق پڑتا ہے۔
’ہمیں ایک کلو بڑے گوشت کے لیے 250 مربع میٹر زمین درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اتنے ہی وزن کے کیڑے 30 مربع میٹر میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمیں پانی بھی کم درکار ہوتا ہے۔ ایک کلو کیڑوں کے لیے ایک ہزار لیٹر پانی لیکن بڑے گوشت کے لیے 20 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔‘

اندریسا اور لورین اب کیڑوں سے بنی دیگر کھانے کی اشیا بنانے کا منصوبہ رکھتی ہیں جیسے کیک، سیریئل اور چند اقسام کے تیل۔
تاہم فی الحال آپ کو عام دکانوں میں لال بیگ سے بنی ڈبل روٹی نہیں ملے گی اور برازیل کے حکام نے کیڑوں سے بنی اشیا کو انسانوں کی خوراک کا حصہ ہونے کی منظوری نہیں دی ہوئی۔
لیکن سپین کی ایک سپر مارکیٹ میں جھینگروں سے بنائے گئے سینڈوچ وغیرہ ملتے ہیں۔ برطانیہ میں روسٹڈ ٹڈے ملتے ہیں۔
تو کیا آپ لال بیگ ڈبل روٹی کھانے کے لیے تیار ہیں؟