جھانسی کی رانی‘ مشکل میں کیوں پھنس گئی

امیتابھ بچن کی گونجتی آواز کے ساتھ ایک دلکش سیٹ کے درمیان سے گزرتے دکھائی دیتی ہیں کنگنا رناوت۔ یہ ’ٹیزر‘ ہے فلم ’منیکرنیکا‘ کا جسے گاندھی کے جنم دن پر جاری کیا گیا ہے۔ پورے ٹیزر میں کنگنا رناوت جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی شخصیت کو دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

لیکن اس فلم کی شوٹنگ سے ٹیزر تک پہنچتے پہنچتے کئی جنگیں لڑنی پڑیں۔ تنازعات کا سلسلہ ایسا چلا کہ اب تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
ان تنازعات کا بیج سنہ 2015 میں ہی بو دیا گیا تھا۔
’مانجھی‘ اور ’منگل پانڈے‘ جیسی فلمیں بنانے والے کیتن مہتا سنہ 2015 میں کنگنا رناوت سے ایک فلم کا آئیڈیا لے کر ملے۔
انھوں نے کنگنا کو مبینہ طور پر بتایا کہ وہ رانی لکشمی بائی پر فلم بنانا چاہتے ہیں۔ اپنی اس فلم کے لیے انھوں نے رانی لکشمی بائی کے کردار کے لیے کنگنا کو چنا اور ان سے فلم سے متعلق لگ بھگ ہر بات شیئر کی۔

کنگنا نے ان کی اس فلم کے لیے ایک پروڈیوسر کو ڈھونڈا اور پروڈیوسر کمل جین جھانسی کی رانی کی فوج میں شامل کر لیے گئے۔
حالانکہ کیتن مہتا نے ایک غیر ملکی پروڈیوسر کو اپنے ساتھ اس پراجیکٹ میں شامل کر لیا تھا لیکن وہ انڈین پروڈیوسر کی تلاش میں بھی تھے۔
اور پھر کچھ ایسا ہوا جس کی کیتن مہتا کو امید نہیں تھی۔ یہاں ان سے ہر سطر پر اس فلم کے آئیڈیا کو لے کر بات چل ہی رہی تھی کہ ان کو اخبار کے ذریعے پتا چلا کہ کنگنا نے جنوبی ہند سے ڈائریکٹر کرش کے ساتھ ٹھیک اسی آئیڈیا پر ایک فلم کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ بات معلوم ہوتے ہیں انھوں نے کنگنا کو قانونی نوٹس بھیجا لیکن انھوں نے کنگنا سے اس فلم کے بارے میں صرف بات چیت کی تھی اور کسی طرح کی کاغذی کارروائی نہیں کی تھی تو وہ کنگنا کے خلاف کچھ کر نہیں پائے۔ کنگنا کا کہنا تھا کہ انھوں نے کیتن مہتا کے ساتھ کوئی فلم سائن نہیں کی تھی۔

پھر کیتن مہتا نے بھی تسلیم کیا کہ فلم کے سلسلے میں کسی طرح کی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی تھی تاہم انھوں نے کہا کہ اخلاقی طور پر کنگنا نے ٹھیک نہیں کیا۔
اب اس فلم کے پروڈیوسر کمل جین اور کنگنا رناوت جبکہ ڈائریکٹر کرش تھے۔ پھر فلم کی ٹیم میں مزید اضافہ ہوا اور اداکار سونو سود، انکتا لوکھنڈے، اتل کلکرنی، سریش اوبیرائے بھی شامل ہوئے اور سنہ 2017 میں اس فلم کی شوٹنگ شروع ہوئی۔

مئی سنہ 2017 میں اس فلم کا پہلا پوسٹر بنارس میں ریلیز کیا گیا کیونکہ جھانسی کی رانی کا جنم وہیں ہوا تھا۔
فلم ’منیکرنیکا‘ کی شوٹنگ بنارس، جے پور، مہارشٹر اور مدھیا پردیش کے کئی علاقوں میں ہوئی۔
فلم کی شوٹنگ کے دوران ڈائریکٹر کرش کو جنوبی ہند میں اپنے دوسرے پراجیکٹ کے لیے ’منیکرنیکا‘ کی شوٹنگ سے بریک لینا پڑی۔ انھوں نے تیلگو سپر سٹار اور سیاست دان این ٹی راما راؤ کی بائیوپک کے لیے اس فلم سے بریک لی۔

اس دوران سیٹ کے ایک کلپ بورڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگی جس پر ڈایکٹر کے نام پر کنگنا رناوت لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد کنگنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ کرش بریک لے کر اپنے دوسرے پراجیکٹس میں لگے ہوئے ہیں اور فلم کی ہدایت کاری کا ’پیج ورک‘ ہی بچا ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری انھوں نے سنبھال لی ہے۔

اسی دوران سونو سود نے فلم چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ سونو سود اس فلم میں سداشو راؤ بھاؤ کا کردار نبھا رہے تھے جو رانی لکشمی بائی کی فوج کے سردار سپہ سالار تھے۔
سونو سود کے فلم چھوڑنے کے بعد کنگنا نے الزام عائد کیا کہ سونو ایک خاتون کی ہدایات میں شاید کام کرنا نہیں چاہتے۔
اس پر اپنی صفائی دیتے ہوئے سونو سود نے کہا ’یہاں بات خاتون یا مرد ڈائریکٹر کی نہیں ہے بات اہلیت کی ہے۔‘
اس کے بعد سونو سود رنویر سنگھ کی فلم ’سنبا‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہو گئے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق انھوں نے بقیہ ’منیکرنیکا‘ کی شوٹنگ کے لیے کوشش کی۔ انھوں نے ایک تاریخ طے کرنے کا بھی سوچا تاکہ وہ ’منیکرنیکا‘ میں اپنے کردار کی شوٹنگ پوری کر سکیں، لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔

سونو سود کا کردار اب ذیشان ایوب نبھا رہے ہیں۔

سردار سپہ سالار نے استعفیٰ دیا تو بھلا ان کی پردے دار بیوی پاروتی کیسے وہاں رہ سکتی تھیں۔ سونو سود کی بیوی کا کردار نبھانے والی سواتی سیموال نے سنہ 2018 میں ستمبر کے مہینے کے اختتام پر فلم چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے فلم اس لیے چھوڑی کیونکہ فلم میں جس طرح کا ان کا کردار شروع میں لکھا گیا تھا وہ فلم کی شوٹنگ کے اختتام تک ایک چھوٹے دائرے میں سمٹ گیا تھا۔ اسی وجہ سے انھوں نے فلم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ فلم بدمزگی میں نہیں چھوڑ رہیں بلکہ اپنے کیریئر کو سوچتے ہوئے چھوڑ رہی‌ ہیں۔

اس فلم کا نام ’منیکرنیکا‘ اس لیے رکھا گیا کیونکہ وارانسی میں پیدا ہونے والی رانی لکشمی بائی کا نام شادی سے پہلے منیکرنیکا ہی تھا اور جھانسی کے راجا سے شادی کے بعد ان کا نام رانی لکشمی بائی ہو گیا تھا۔

رانی لکشمی بائی کی داستان انڈیا میں سکولوں میں تاریخ کی نصابی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے۔
یہ فلم 25 جنوری 2019 کو ریلیز ہوگی۔ اسی تاریخ کو ہریتک روشن کی فلم ’سپر 30‘ بھی نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔