ایڈز سے بچاؤ کے لیے یوگینڈا کی فوج کی جانب سے کونڈوم متعارف

افریقی ملک یوگینڈا کی قومی فوج نے اپنے برانڈ کا کونڈم مارکیٹ میں متعارف کرایا ہے جس کا سواہلی زبان میں مطلب ‘تحفظ’ ہے اور اس کا مقصد فوجیوں میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز وائرس سے بچاؤ ہے۔
فوج کے چیف آف سٹاف بریگیڈیر لیوپولڈ کیانڈا نے ‘النیزی کنڈوم’ کو متعارف کرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ فوجی اگر اپنی حفاظت یقینی نہ بنائیں تو وہ اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے۔’
ماضی میں یوگینڈا کی فوج میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی سے متاثرہ فوجی رہے ہیں۔
ایچ آئی وی وائرس کے بارے میں مزید پڑھیے

النیزی کونڈم کا پیکٹ کیموفلاج کے پیک میں تیار کیا گیا ہے اور ملک کی وزارت صحت کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ فوجی اپنے مشن سے جب کام کر کے گھر لوٹیں تو ان کو ایچ آئی وی نہ ہو۔
وزارت صحت سے وابستہ واستھا کیبریج نے ملکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو نوکری میں مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ ‘جب یہ فوجی جنگی مقامات پر جاتے ہیں تو وہ جنسی تشنگی حاصل کرنے کے لیے خواتین سے ملتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا خیال کریں اور خود کو ایچ آئی وی سے بچائیں تاکہ وہ اپنی بیویوں میں یہ وائرس منتقل نہ کر دیں۔’

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد ایڈز یو این ایڈز کے مطابق سیکس کرتے وقت یوگینڈا میں صرف نصف افراد کونڈم استعمال کرتے ہیں اور یہ ‘بے حد خطرناک ہے۔’
واضح رہے کہ ملکی آبادی کا چھ فیصد وائرس سے متاثرہ ہے لیکن حالیہ دنوں میں کوشش کی گئی ہے کہ اس کو کم کیا جائے۔
سال 1999 میں ملک میں ایڈز سے ہونے والی اموات کی تعداد 74000 تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق گذشتہ سال 26000 افراد ایڈز وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اموات میں کمی کی وجہ بڑی تعداد میں چلائی جانے والی آگاہی مہم ہیں اور ساتھ ساتھ مختلف ادویات کی فراہمی جو وائرس کو بڑھنے سے روکتی ہے۔
ملک بھر میں 13 لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہیں جن میں سے 70 فیصد افراد یہ ادویات استعمال کرتے ہیں اور یہ مفت فراہم کی جاتی ہیں۔