بحیرۂ روم کے خطے کی خوراک صحت کے لیے اچھی ہے؟

 

 

آپ نے شاید سنا ہو کہ بحیرۂ روم کے کنارے آباد ممالک میں کھائی جانے والی خوراک صحت کے لیے اچھی ہے۔ (حالیہ تحقیق کے مطابق یہ شاید آپ کے ڈپریشن کی کیفیت کو بھی کم کرتی ہے) لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اصل میں ہے کیا اور کیسے مدد کرتی ہے؟

یہاں ہم آپ کو بنیادی معلومات سے آگاہ کریں گے۔

بحیرۂ روم کے خطے کی خوراک بہت سی سبزیوں، پھلوں، پھلیوں اور دلیے اور اس سے بنی دیگر اجناس پر مشتمل ہوتی ہے مثلاً گندم کی روٹی، پاستہ اور براؤن رائس۔
اس میں مناسب مقدار میں مچھلی اور سفید گوست اور کچھ دودھ سے بنی اشیا بھی شامل ہیں۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن میں غذائیت سے شعبے سے وابستہ ماہر وکٹوریہ ٹیلر نے بتایا کہ یہ عناصر اچھی صحت کا باعث ہیں۔
صحت کے فوائد کیا ہیں؟
اس خطے کی خوراک پر کی جانے والی تحقیق سے سے پتہ چلا ہے کہ یہ ذیابیطس کی ٹائپ ٹو، ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے جو کہ دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ بحیرۂ روم کی خوراک اپناتے ہیں، لمبی عمر پا سکتے ہیں اور ان کا وزن بھی کم بڑھتا ہے۔
مس ٹیلر کہتی ہیں کہ یہ خوراک کا مرکب ہوتی ہے بجائے اس کے یہ صرف ایک قسم کے اجزا پر مشتمل ہو۔ اس وجہ سے یہ خوراک کا صحت مند طریقہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ جسم کو چکنائیاں فراہم کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
امریکہ میں طبی سینٹر میئو کلینک کا کہنا ہے کہ زیتون کے تیل کو اگر مکھن کی جگہ استعمال کریں جو کہ مونوان سیچوریٹڈ فیٹ ہے۔
اس کے علاوہ مونگ پھلی،مچھلی اور دیگر بیجوں میں بھی صحت مند چکنائیاں موجود ہوتی ہیں۔
میئو کلینک کے مطابق
بحیرۂ روم کے مختلف ممالک میں خواراک کے یہ اصول ہیں۔
یونان میں لوگ بہت ہی کم سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں وہ دن میں نو مرتبہ فروٹ اور سبزی کا استعمال کرتے ہیں۔
ہم کیسے بحیرہ روم کے طرز پر خوراک لے سکتے ہیں؟
بظاہر لگتا ہے کہ یہ آپ کے مینیو سے موافقت رکھتا ہے۔
ٹیلر کہتی ہیں کہ اگر آپ غیر صحت مند خوراک کھا رہے ہیں جو مکمل طور پر پروسیسڈ خوراکوں کا مجموعہ ہے تو ایسے میں ایک ہی عنصر کو ملانے سے جیسے کہ زیتون کا تیل آپ کی صحت کے لیے بہت نمایاں فائدہ دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پھر بھی آپ اپنی تمام خوراک کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مطلب کہ آپ زیادہ مچھلی کھائیں اور کم گوشت، مفید چکنائی کو منتخب کریں اور زیادہ پھل اور سبزیاں کھائیں تو یہ ایک بہت بڑا فرق لا سکتا ہے۔

حال ہی میں یہ بحث بہت چلی تھی کہ کیا چکنائی اور نشاستہ ہماری معاصر خوراک کے بڑے دشمن ہیں۔
لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ایک انسان کی ذاتی خوراک کے اجزا کو مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ آسان ہو جاتا ہے کہ اس کا وسیع سطح پر اثر جانچا نہ جا سکے۔
ٹیلر کہتی ہیں کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ کس طرح خوراک اور مختلف غذائی اجزا ہماری صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مکمل ڈائٹ لینے کا رحجان ہماری کھانے کی عادات اور انتخاب میں مدد کرتا ہے۔‘’
سو اس لیے اگر آپ کی رہائش بحیرۂ روم کے ممالک میں نہیں، آپ سمندر کے قریب نہیں رہتے جہاں بہت زیادہ دھوپ ہو اور مزیدار کھانے کی ڈشز آپ کی اچھی صحت کی ضمانت دے سکیں تب بھی آپ دھوپ سے روشن باورچی خانوں کے ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔