نوازالدین صدیقی: پھر کتاب لکھوں گا اور اس بار سب جھوٹ لکھوں گا

 

 

بالی وڈ اداکار نوازالدین صدیقی کو گذشتہ سال اپنی کتاب ’این آرڈینری لائف‘ کو اشاعت کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔
اپنی خود نوشت کو واپس لینے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے نوازالدین نے کہا: ‘میں پھر سے کتاب لکھوں گا اور اس بار سب جھوٹ لکھوں گا، سب لوگ خوب پڑھیں گے کیونکہ میں ‘معروف’ ہوں۔ لوگ پڑھیں گے اور واہ واہ کریں گے کیونکہ معروف لوگوں کی کتاب سب پڑھتے ہیں۔’

نوازالدین معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر مبنی اپنی آنے والی فلم کے لیے ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وہ اپنی کتاب کو واپس لیے جانے پر بہت مایوس تھے۔
نوازالدین صدیقی نے کہا: ‘میری کتاب 209 صفحات پر مشتمل تھی جبکہ میرے تعلقات کے بارے میں اس میں صرف چار پانچ صفحات ہی تھے۔ میں نے اپنی کتاب میں اُن کا نام کے ساتھ ذکر کیا جو میری غلطی تھی۔
‘میں نے اس کا اعتراف کیا اور کتاب واپس لے لی۔ اس کے باقی 204 صفحات میں میں نے بتایا کہ میں کس طرح ایک چھوٹے سے گاؤں سے آیا، کس طرح تربیت حاصل کی، کس طرح میری سوچ بدلی۔ میں جیسا بھی اداکار ہوں اچھا یا برا وہ سب لکھا۔ میں نے اس میں اپنا قصیدہ نہیں لکھا تھا۔’

نواز کہتے ہیں کہ ‘یہ کتاب انگریزی میں ضرور تھی لیکن اس میں لکھی ہوئی باتیں بہت واضح اور سچ پر منبی تھیں جیسا کہ میں تھا۔ میں نے اپنے غلط تصوارت کا ذکر کیا تھا کیونکہ میں ایک ایسی جگہ سے آتا ہوں جہاں ویسے ہی خیالات عام ہوتے ہیں۔

 

انھوں نے شکایت کی کہ ان کی باقی باتوں پر توجہ نہیں دی گئی اور صرف چار پانچ صفحات کے لیے اسے سنسنی خیز بنا دیا گیا۔
’اس طرح مجھے یہی احساس ہوا کہ میں اپنی کتاب واپس لے لوں کیونکہ میں اب مشہور اور مقبول ہو گیا ہوں۔’
بالی وڈ کے اداکار نواز الدین صدیقی نے اپنی سرگزشت واپس لے لی ہے جس میں انھوں نے متعدد خواتین کے ساتھ اپنے رشتے کی تفصیل بغیر ان کی اجازت کے شامل کی ہے۔
اس کتاب میں انھوں نے اپنی ساتھی اداکارہ نہاریکا سنگھ کے علاوہ کئی خواتین کے ساتھ اپنے تعلقات کو تفصیل سے بیان کیا تھا۔
نہاریکا سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘انھوں نے جو کچھ لکھا اس کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں اور میری مرضی لینے کا تو سوال ہی نہیں ہے۔’
اس کے بعد انھوں نے معافی مانگتے ہوئے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا: ‘میں ہر اس شخص سے معافی مانگتا ہوں جن کے جذبات ہماری یاد داشت ‘این آرڈینری لائف’ کی بدنظمی سے مجروح ہوئے ہیں۔ اس کا مجھے افسوس ہے اور اس لیے میں نے اپنی کتاب واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔’

نواز الدین صیدقی کی مصروفیات
فلم منٹو اور ٹھاکرے کے علاوہ نوازالدین اپنی فلم ‘نیو لو ان روم’ اور سپرسٹار رجنی کانت کے ساتھ ایک فلم میں مصروف ہیں۔
رجنی کانت کے لیے ان کے مداحوں کی محبت پر نواز کہتے ہیں، ‘رجنی سر دنیا کے سب سے بڑے سپر سٹار ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کے مداحوں میں ان کے لیے جو جذبہ ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں نظر آتا۔ جب آپ ان سے ملیں گے تو وہ آپ کو یہ احساس نہیں ہونے دیں گے کہ وہ اتنے بڑے سٹار ہیں بلکہ وہ یہ ظاہر کریں گے کہ وہ آپ ہی کی طرح ہیں۔’

وہ مزید کہتے ہیں: ’میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بڑے سٹار ہیں۔ رجنی سر اور دوسرے سٹارز میں بہت فرق ہے۔ اتر پردیش کے کسی گاؤں میں چلے جائیں سب کو پتہ ہے کہ رجنی کانت کون ہیں لیکن ہمارے یہاں کے سپر سٹار کو جنوبی ہند کے گاؤں میں لوگ نہیں جانتے‘۔

اپنی اداکاری کا لوہا منوانے والے نوازالدین صدیقی کو نیشنل ایوارڈ کا کوئی لالچ نہیں۔
نوازالدین کہتے ہیں: ‘میں نیشنل ایوارڈ کے لیے فلم نہیں کرتا اور میں جانتا ہوں کہ مجھے نیشنل ایوارڈ نہیں ملے گا۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں اسی لیے مجھے اس کی کوئی امید بھی نہیں‘۔
اداکارہ فلم ساز نندیتا داس کی ہدایت میں بننے والی فلم ‘منٹو’ 21 ستمبر کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس فلم میں نوازالدین کے ساتھ رشی کپور، جاوید اختر، رسیکا دگل، طاہر راج بھسین اور دویا دتہ اہم کردار میں نظر آئیں گی۔