پلس سائزڈ خواتین کو یہی چاہیے تھا‘

 

 

بین الاقوامی فیشن میگزین کاسموپولیٹن کے تازہ شمارے کی سٹار ایک امریکی پلس سائزڈ (فربہ) خاتون ماڈل ٹیس ہالیڈے ہیں۔
رسالے کے سرورق کی یہ کہہ کر تعریف کی گئی ہے کہ اس میں جسم کی نمائش مثبت انداز میں کی گئی ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ ایک فیشن میگزین کے سرورق میں ‘نمایاں طور پر موٹی خاتون’ کو دیکھنا بہت اہم پیش رفت ہے۔

ٹیس ہالیڈے جن کا یو کے سائز 26 ہے کا کہنا ہے کہ جب انھیں کور فوٹو کے لیے کہا گیا تو وہ رو پڑیں۔
انھوں نے بی بی سی کی وکٹوریا ڈربی شائر کو بتایا: ’اس طرح کے میگزین میری طرح، حقیقت میں فربہ جسم کو کور پر جگہ نہیں دی۔‘
’چمک دار سرورق پر جہاں آپ میرا جسم دیکھ سکتے ہیں، رسالے والوں نے بالکل کوئی تبدیلی نہیں کی، مجھے بہت بہت فخر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’یہ نہ صرف میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے بلکہ جو کام میں کر رہی ہوں، میرے جیسے زیادہ وزن والے لاکھوں افراد پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔‘
33 سالہ ٹیس ہالینڈے نے انسٹاگرام پر اس بارے میں لکھا: ’اگر میں اپنے جیسے جسم کو اس رسالے پر اس وقت دیکھتی جب میں ایک کم عمر لڑکی تھی تو اس سے میری زندگی بدل جاتی۔‘
بہت سے لوگوں نے ٹوئٹر پر رسالے کے سرورق کی تعریف کی ہے۔
بہرحال بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس طرح سے ’غیرصحت مند جسم‘ کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔
اس تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے ٹیس ہالینڈ نے کہا کہ ’وہ ناراض ہیں کہ میں موٹی ہوں لیکن یہ روز کا معمول ہے۔‘
’حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایک بار بھی اپنے فالوورز یا کسی اور کو وزن بڑھانے کا نہیں کہا۔‘
’میں کہتی ہوں کہ میں خود سے پیار کرتی ہوں اور کیونکہ یہ الفاظ میرے جیسے بڑے اور فربہ جسم والی خواتین کی جانب سے آ رہے ہیں تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میں موٹاپے اور غیر صحت مندی کی تشہیر کر ہی ہوں۔‘

بعض برانڈز کو حال ہی میں فیشن بلاگرز کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان بلاگرز کا دعویٰ ہے کہ ’پلس سائزڈ خواتین کو اپنی مہم سے نکال دیا گیا ہے۔‘
بلاگر سٹیفنی ییبو نے نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’انھیں ہمارا پیسہ تو چاہیے لیکن پھر بھی کسی ایسے کا انتخاب نہیں کیا جاتا جو ہماری نمائندگی کریں۔‘
گذشتہ کچھ سالوں سے کئی برانڈز نے اپنی پلس سائز رینج بڑھائی ہے اور اس کی نمائش کے لیے انھوں نے فیلیسٹی ہیورڈ جیسی ماڈلز کا انتخاب کیا۔
فیلیسٹی ہیورڈ کا کہنا ہے کہ ایسے بھی برانڈز ہیں جو پلس سائزڈ ماڈلز کو استعمال کرتے ہیں۔
’کیمپینگ میں میرا پیٹ دکھایا گیا ہے اور میں نے بہت سا کام بغیر ایڈیٹنگ کے کیا ہے۔‘
اب جب کہ ٹیس جیسی ماڈل کو بڑے فیشن میگزین ملی ہے تو سٹیفنی کو امید ہے کہ دیگر بھی اسی نقش قدم پر چلیں گے۔