یمن: سکول بس پر اتحادی فضائیہ کی بمباری، درجنوں بچے ہلاک

 

 

باغیوں کے زیرِ قبضہ شمالی یمن کے علاقے میں سعودی عرب کے زیرِ قیادت اتحادی فضائیہ کی ایک سکول بس پر بمباری سے درجنوں افراد اور مقامی سکول کے طلبا ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے ذرائع کے مطابق یہ بس صعدہ صوبے کے شہر ضحيان کی ایک مارکیٹ سے گزر رہی تھی جب یہ ہوائی بمباری کا نشانہ بنی۔

باغیوں کے علاقے میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہے جبکہ ریڈ کراس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں دس برس سے کم تھی۔

 

 

اتحادی افواج نے، جو حوثیوں کے خلاف یمن کی حکومت کی حمایت میں لڑ رہی ہے، کہا ہے کہ ان کی بمباری قانونی طور پر درست تھی۔
اُس کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے شہریوں کو کبھی بھی جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اتحادی افواج پر ہسپتالوں، مارکیٹوں، سکولوں اور رہائیشی علاقوں پر بمباری کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

شمالی یمن کے قبائلی زعما کا کہنا ہے کہ سکول کی یہ بس اس وقت بمباری کا نشانہ بنی جب یہ ضحیان کی ایک مقامی مارکیٹ کے قریب سے گزر رہی تھی اور اس بس میں مقامی سکول کے بچے اور کچھ مقامی افراد سوار تھے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ جمعرات کو سدا کے ایک ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں لائی گئیں۔ ریڈ کراس اس ہسپتال کی امداد کرتی ہے۔
یمن میں ریڈ کراس کے عملے کے سربراہ جوہنس بروور نے ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ ایک بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور ان میں ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کی عمریں دس برس سے کم تھیں۔
انھوں نے کہا کہ اس ہنگامیں حالت سے نمٹنے کیلئیے ہسپتال کو ہنگامی بنیادوں پر مزید سپلائیز بھیج دی گئیں ہیں۔
حوثیوں کے ٹیلیویژن چینیل المسیرہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں بچوں سمیت 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 77 زخمی ہوئے۔ اس چینیل نے ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشوں کی تصویریں نشر کی ہیں جن میں وہ سکول یونیفارم پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حوثیوں کے ترجمان عبدالسلام نے اتحادی افواج پر عام ہجوم کو بمباری کا نشانہ بنا کر شہریوں کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی نے زور دے کر کہا ہے کہ بین االاقوامی قوانین کے مطابق شہریوں کی حفاظت ہر حال میں کرنا لازم ہے۔ جبکہ ناروے کی مہاجرین کی کونسل کے سیکریٹری جنرل یان ایگلینڈ نے اس حملے کو بھونڈا اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی فوج جنگ کے قواعد و ضوابط کو مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا بس اتحادی فضائیہ کی بمباری کی براہ راست نشانہ تھی، تاہم اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک درست کارروائی کی جو بین الاقوامی ضوابط کے مطابق جائز تھی۔

اتحادی افواج کے ترجمان کے نے کہا کہ انھوں نے بدھ کی شب عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا جو جزان میں یمنی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ترجمان کا دعویٰ تھا کہ باغیوں کے اس حملے میں ایک شہری ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق قریبی علاقے عمران کے حوثی باغیوں نے ایک میزائیل داغا تھا جس کو ہوا ہی میں مار گرایا گیا تھا۔

ترجمان نے حوثیوں پر بچوں کو اپنے حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ڈھال بنانے کا بھی الزام لگایا۔
اس کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں فضائی بمباری کی خبر آئی۔
ایک ہفتہ قبل بھی بحیرہ احمر پر بندرگاہ والے شہر حدیدہ میں بمباری سے 55 افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے تھے۔ لیکن سعودی عرب کے زیر قیادت افواج کے ترجمان نے حملے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بمباری باغیوں کی مارٹر فائرنگ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

یمن کی جنگ میں تیزی اس وقت آئی جب سن 2015 میں حوثی باغیوں نے ملک کے مغربی علاقے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا اور یمنی صدر عبد ربو منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
حوثیوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت سے خبردار ہو کر متحدہ عرب ممالک، سعودی عرب، اور سات دیگر عرب ممالک نے مل کر مداخلت کی اور ہادی کی حکومت کو بحال کیا۔ ان کے بقول حوثی ایران کی حمایت یافتہ عسکری گروہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطباق کم از کم دس ہزار افراد جن میں دو تہائی شہری ہیں، اس جنگ کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پچپن ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
یمن میں جنگ اور اس محاصرے کی وجہ سے دو کروڑ سے زیادہ افراد اس وقت ایک المناک حالت کا شکار ہیں جنھیں امداد کی سخت ضرورت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یمن میں اس وقت دنیا کا سب سے بڑا خوراک کی کمی کا بحران ہے جس کے نتیجے میں وہاں ہیضہ کی وبا پھیل گئی ہے جس سے مزید لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں ہیں۔