پوسٹ مارٹم سے پتہ چلے گا کہ آیا بچی پر جنسی بھی تشدد ہوا تھا

 

 

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں حکام کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے گلا دبا کر ہلاک کیے جانے والی پانچ سالہ بچی حسینہ گل کے مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد یہ معلوم ہوسکے گا کہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے قتل کی تحقیقات ایک ہائی پروفائل کیس کے طور پر کی جارہی ہے۔
مردان کے ضلعی پولیس سربراہ واحد محمود نے پشاور میں بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی دو ٹیمیں گزشتہ دو دنوں سے اس کیس پر کام کر رہی ہے اور اس واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کی جارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب تک پولیس کی طرف سے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے امید ہے کہ واقعے کے اصل ذمہ داروں تک پہنچنے میں مدد ملی گی۔
پولیس افسر کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچی کی ہلاکت گلا دبانے سے ہوئی ہے اور اسکی لاش ایسی حالت میں ملی کہ اُس کے ہاتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے۔
ان کے مطابق ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ قتل سے پہلے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں جبکہ اس کا تعین مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد کیا جا سکے گا۔
پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ علاقے کے تمام جرائم پیشہ لوگوں کے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اور اس سلسلے میں وہاں گزشتہ دو دنوں میں درجنوں افراد سے بھی تفتیش کی گئی ہے۔
ادھر بچی کے والد حیبیب الرحمان کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے سے چند گھنٹے قبل ان کی بیٹی ان کے پاس آئی اور خلاف معمول تقریباً ایک گھنٹہ تک ان کے پاس موجود رہی۔
والد کے مطابق بچی کبھی ان کو پیار کرتی رہی اور کبھی ان کو گلے لگاتی رہی حالانکہ پہلے اس نے کبھی اس طرح نہیں کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازع نہیں ہے۔ ان کے بقول ان کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ظالم انکی بیٹی کو اتنی بے دردی سے قتل کردیں گے۔
حیبیب الرحمان کے مطابق حسینہ گل کے گلے کے علاوہ اور کہیں تشدد کے نشان نظر نہیں آئے لہذا اس بات کا اندازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی سامنے آ سکے گا کہ موت سے قبل انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں۔

دریں اثناء سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر بھی سیاسی رہنماؤں اور خواتین کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے کمسن بچی حسینہ گل کے بے دردی سے قتل کی مذمت کی جارہی ہے۔
کئی صارفین کی طرف سے بچی کی تصویریں بھی شئییر کی گئی ہیں جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بچی کو موت سے قبل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک اسکی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے مردان کے نواحی علاقے تخت بھائی میں گاؤں ڈھنڈاپتوں کے مقام سے پانچ سالا بچی حسینہ گل گھر کے سامنے سے لاپتہ ہوگئی تھی۔
پولیس کے مطابق ایک دن کے بعد قریبی گنّے کے کھیتوں سے بچی کی تشدد زدہ لاش ملی تھی اور اسکے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھے ہوئے تھے۔
گزشتہ روز بچی کی پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی جس میں اعلی پولیس اہلکار اور علاقے کے مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بچی کے والد حبیب الرحمان مقامی مسجد میں امامت کرتے ہیں جہاں وہ ایک دینی مدرسہ بھی چلا رہے ہیں۔