آسٹریلیا میں خشک سالی ڈرون کیمرے کی نظر سے

 

 

آسٹریلیا کے کچھ مشرقی علاقے بارشوں کی کمی کے باعث شدید ترین خشک سالی کا شکار ہے جس سے فصلیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے فوٹوگرافر ڈیوڈ گرے نے خشک زمین کی فضا سے منظر کشی کی ہے اور رنگوں کے خوبصورت امتزاج کو پیش کیا ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز میں والگیٹ میں ایک کھیت کے باہر ایک تنہا درخت زندگی کی واحد علامت دکھائی دے رہا ہے۔ کھیت کے مالک مے میک کیون کا کہنا تھا کہ انھوں نے سنہ 2010 کے بعد زیادہ بارش نہیں دیکھی۔
نیو ساؤتھ ویلز کا 89 فیصد علاقہ جبکہ کوئنز لینڈ کے دو تہائی حصہ خشک سالی کا شکار ہے۔ جس کے نتیجے میں کسان اپنے پالتو جانوروں کے لیے باہر سے خوراک خرید رہے ہیں جس سے ان کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے ٹامورتھ میں ایک گائے ایک پانی کے ٹینک کے قریب جا رہی ہے۔ ایک کسان ٹام ولسٹن کا کہنا ہے کہ ‘میں صرف کھانا کھلانے کے علاوہ کچھ کرنہیں سکتا، ایسے ہی گزر رہا ہے، یہ خشک سالی پہلے سے بہت بدتر ہے۔’

نیو ساؤتھ ویلز میں گنیڈا کے قریب ایک خشک تالاب۔ حکومت کی جانب سے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے لیے ایک ارب آسٹریلین ڈالر کی امداد دی گئی ہے۔ کسان ایش وائٹنی کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ساری زندگی یہاں گزاری ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی ابھی مزید رہے گی۔’

ٹامورتھ کے علاقے میں بھیڑیں کھانا کھا رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد میں مشکلات کا شکار کسانوں کے لیے بہتری دماغی صحت کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔
سنہ 2002 کے بعد سے آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں دسمبر اور فروری کے درمیان شدید ترین گرم موسم ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ جولائی کا مہینہ ملک میں گرم ترین مہینہ تھا۔
ایک سیراب احاطے کے قریب ہی خشک زمین کا ٹکڑا۔ آسٹریلیا کی ایک چوتھائی زرعی پیداوار کا انحصار نیو ساؤتھ ویلز پر ہے، لہذا خشک سالی سے یہ شعبہ خاصا متاثر ہوا ہے۔
جون میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے وزیراعظم میلکم ٹرنبل کا کہنا تھا کہ اس کا موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ واضح تعلق ہے۔
تمام تصاویر روئٹرز کی ہیں




Chat Con