آپ فیس بک اور انسٹا گرام پر کتنا وقت گزارتے ہیں؟

 

 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور انسٹا گرام اب ایک نیا ٹول جاری کر رہی ہیں جس کی مدد سے لوگ یہ جان سکیں گے کہ انھوں نے اپنا کتنا وقت ان ایپس پر صرف کیا ہے۔
یہ اعلان ان تحفظات کے بعد جاری سامنے آیا ہے جب یہ بحو بہت عام ہے کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال انسان کی ذہنی صحت پر کتنا منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اب صارف یہ جان سکیں گے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر کتنی دیر سکرولنگ کی۔ اب وہ ان ایپس پراپنی یادہانی کے لیے ریمائنڈر بھی لگا سکتے ہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ وہ الاٹ کردہ وقت پورا کر چکے ہیں اور وہ کچھ وقت کے لیے نوٹیفکیشن کی آواز بھی بند کر سکتے ہیں۔

 

 

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بہت کارآمد نہیں ہوگا۔
بی بی سی کے پروگرام نیوز بیٹ میں بات کرتے ہوئے آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کے گرانٹ بلینک نے کہا کہ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ کوئی بہت بڑی تبدیلی ہے یا یہ لوگ جیسے فیس بک اور انسٹا گرام استعمال کرتے ہیں اس کے انداز میں کچھ تبدیل کرنے جا رہا ہے ۔ ‘

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی لوگوں کو فیس بک پر رکھنے کے لیے اپنے کاروباری مفاد حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ اب بھی ان لوگوں کے لیے مددگار ہو گا جو بہت زیادہ نوٹیفکیشن سے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔
فیس بک نے دسمبر 2017 میں ایک بلاگ پوسٹ کیا تھا جس میں اس پر بہت زیادہ وقت گزارنے کے منفی اثرات کو تسلیم کیا گیا تھا۔
ایک اور تجربہ امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کے طالبعلموں پر کیا گیا۔ اس کے دوران جن طلبا سے کہا گیا کہ وہ 10 منٹ تک فیس بک کو سکرول کریں ان کا موڈ دن کے اختتام پر ان طالبلعموں کی نسبت بہت برا تھا جن سے یہ کہا گیا کہ وہ اپنے دوستوں سے بات کریں یا کچھ پوسٹ کریں۔

یو ایس سان تیاگو اور یےیل یونی ورسٹی میں ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جو بہت سی پوسٹس کو دو دو بار پسند یا لائک کرتے ہیں یا وہ جو چار چار بار بہت سے لنکس کو کھولتے ہیں ان میں ذہنی صحت کا زیادہ مسئلہ سمجھ آیا نسبتاً دوسروں کے ۔

لائف سٹائل ولاگر ایم شیلڈن جن کی عمر 24 برس ہے نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ اپنے دوست کو چیک کرتے رہنا دن بھر کا کام ہے۔
‘میرا خیال ہے کہ یہ نوکری کا حصہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مسئلہ بن چکا ہے ہم اپنے فون اور سوشل میڈیا پر نگاہ رکھنے پر انحصار کرنے لگے ہیں۔
‘میرے لیے سوشل میڈیا چوبیس گھنٹے کا کام ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت زیادہ وقت لیتا ہے۔ یہ میری ضرورت ہے کہ میں مسلسل اس پر رہوں۔’
وہ کتہی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ نیا ٹول کتنا مددگار سکے گا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں بہت زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتی ہوں۔
لیکن وہ اس پر متفق ہیں کہ یادہانی کے لیے نوٹیفکیشن مدد دے سکتا ہے۔
‘شاید یہ مجھے اس پر مجبور کرے کہ مجھے اب فون کو رکھ دینے کی ضرورت ہے۔’
وہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی مجھے یہ یاد دلا دے کہ آپ چھ گھنٹوں سے اس ایپ کو استعمال کررہی ہیں تو میں کہوں گی واؤ یہ بہت زیادہ ہے۔ وقت کا کیا ضیاع ہے۔’
ٹوئٹر پر 15 گھنٹے
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی، دا گوٹ ایجنسی کے شریک بانی ہیری ہوگوں کہتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔
‘ذہنی مسائل کے سامنے آنے کے بعد۔ خآص طور پر نوجوان لوگوں میں جو کہ پلیٹ فارمز پر اپنا بہت سا وقت گزارتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھیں جو کہ ہمیں ایک حد مقرر کرنے میں مدد دیں۔’

ان کا خیال ہے کہ اگر لوگ یہ سمجھ جائیں کہ وہ کئی گھنٹے ان پلیٹ فارمز پر گلا رہے ہیں تو شاید پھر وہ انھیں استعمال کرتے ہوئے دو مرتبہ سوچیں گے ضرور۔
ہیری کہتے ہیں کہ ٹین ایج میں 15 سے 16 گھنٹے ٹوئٹر استعمال کرتے تھے اور اب جب وہ اس کے بارے میں سوچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنا غیر صحت مندانہ تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں۔
‘ہم ہی وہ ہیں جو فون کو کھلولتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو انسٹا گرام پر انگلی رکھتے ہیں۔ ہم یہ سب ایپل اور فیس بک کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کریں۔’