راز کب چھپا کر رکھنے چاہییں؟

راز بڑی آسانی سے گرفت سے پھسل کر نکل جاتے ہیں۔
بی بی سی کے سینیئر صحافی مارک ٹلی نے اس سوال کا جائزہ لیا ہے کہ کیا ہر وقت سچ بولنا ہی مناسب حکمتِ عملی ہے یا پھر انسان کو دل میں کچھ راز چھپا کر بھی رکھنے چاہییں؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق راز دل میں چھپانے سے نہ صرف انسان ناخوش رہتا ہے بلکہ اس سے اس کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس لیے مناسب یہی ہے کہ کوئی راز نہ رکھا جائے۔
لیکن بعض اوقات راز رکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔ ایسی ہی چند وجوہات یہاں پیش کی جاتی ہیں:

ہماری بعض عادات اور نجی خصوصیات اگر ظاہر کی جائیں تو وہ ہمارے لیے خجالت کا باعث بن سکتی ہیں۔
مثلاً آپ صبح اٹھ کر ایک خاص قسم کا رقص کرتے ہیں، یا آپ کو ٹینڈے کھانے سے نفرت ہے، یا آپ کو چھپکلیوں سے ڈر لگتا ہے، یا ہائی سکول میں آپ کی چھیڑ کیا تھی؟
جب تک آپ کی یہ خفیہ خصوصیات کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتیں، اس وقت تک ان کے بارے میں دوسروں کا جاننا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ نے کسی دوست سے وعدہ کر لیا ہے کہ آپ اس کا راز راز رکھیں گے، تو پھر اس وعدے کو نبھانا ہی پڑے گا۔
کسی دوست کا اعتماد توڑنے سے دوستی کے رشتے میں ہمیشہ کے لیے دراڑ پڑ سکتی ہے۔
اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ اگر آپ نے دوست کا راز کسی اور کے سامنے کھول دیا تو پھر وہ آپ کے ہاتھ سے نکل گیا اور اب اسے چاروں طرف پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب ہیری پاٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ نے 2012 میں روبرٹ گیلبریتھ کے فرضی نام سے ’کیژوئل ویکینسی‘ نامی ناول لکھا۔
یہ نام راز میں رکھا گیا اور ’مٹھی بھر‘ لوگوں کے علاوہ کسی کو اس کی ہوا نہیں لگنے دی گئی۔
لیکن پھر رولنگ کے وکیل نے اپنی بیوی کی سہیلی کو یہ بات بتا دی، اس نے ٹوئٹر پر شیئر کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کو پتہ چل گیا۔

بہت سی کمپنیاں خفیہ فارمولے استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنے حریفوں سے سبقت لے جائیں۔
کوکا کولا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا خفیہ فارمولا ایک لاکر میں رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح گوگل کا بھی اپنا خاص سرچ فارمولا ہے، جب کہ ایپل اپنی تمام آنے والی مصنوعات کی معلومات کو کئی پردوں میں چھپا کر رکھتی ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسے رازوں کا افشا ہو جانا ان کمپنیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ذاتی رازوں کو کسی ماہرِ نفسیات یا کونسلر کے سامنے ظاہر کرنے سے بہت سی نفسیاتی گتھیاں سلجھ سکتی ہیں۔
تاہم ایسا کرنے سے پہلے سوچ لیجیے کہ آیا آپ اس مقصد کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
بعض اوقات آپ کسی فرد کے لیے اچانک پارٹی منعقد کر کے یا تحفہ دے کر اسے حیران کر دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ معلوم کر لیں کہ یہ فرد اس طرح سے حیران ہونا پسند کرتا ہے یا نہیں۔
اس کی مثال بڑی دلچسپ ہے۔ مارک کرے فورڈ نے چھ مہینے لگا کر چھپ چھپ کر گھڑسواری سیکھی اور پھر جرمنی سے خاص طور پر زرہ بکتر منگوائی تاکہ گھوڑے پر سوار ہو کر پرانے زمانے کے سورماؤں کی طرح اپنی گرل فرینڈ کو شادی کا پیغام دے سکیں۔

تاہم جونھی مارک پیغام دینے کے لیے جھکے، وہ گھوڑے سے گر گئے اور ان کی تمام محنت اور رازداری اکارت گئی۔
تاہم خوش قسمتی سے ٹریسی نے ان کی پیشکش قبول کر لی۔
بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات معاملات کو اس وقت تک پسِ پردہ رازداری سے طے کیا جاتا ہے جب تک اس کے اعلان کے لیے حالات سازگار نہ ہو جائیں۔
اگر اس قسم کے راز قبل از وقت طشت از بام ہو جائیں تو فریقین کو سیاسی اور سفارتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران بہت سے راز ایسے تھے جن پر لوگوں کی زندگیوں کا انحصار تھا۔
کائلر خاندان نے نازیوں کے مقبوضہ ڈنمارک میں سے ایک ہزار یہودیوں کو خفیہ طور پر نکال کر سویڈن پہنچایا اور اس مقصد کے لیے دو دن کے اندر اندر خفیہ طور پر دس لاکھ کرونر عطیات کی شکل میں اکٹھے کیے۔

یہ رقم سپاہیوں کو بطور رشوت اور ملاحوں کو بطور معاوضہ دی گئی تاکہ وہ لوگوں کو سمندر کے پار سویڈن تک پہنچا سکیں۔
اس کے علاوہ دنیا کی ہر حکومت اپنے دشمن ملکوں اور دہشت گردوں کے بارے میں خفیہ معلومات رکھتی ہے تاکہ ان کی طرف سے ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔
اسی مقصد کے لیے مختلف ملکوں کے اندر ایسے ادارے کام کرتے ہیں جن کا نام ہی ان کے کام کی نشان دہی کرتا ہے، یعنی سیکرٹ سروس۔