حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تبدیلی کی باتیں کیوں؟

 

 

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کی حکومت کے آنے کی صورت میں کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا؟

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تبدیلی کی بھی بات ہو۔ ماضی میں ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ جیسے ہی اقتدار میں تبدیلی آئی پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو گیا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی تبدیلی لازم وملزوم ہو چکی ہے؟

اس سوال کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ ہمیشہ سے کسی بھی دوسرے غیرسرکاری عہدے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور برسراقتدار آنے والی جماعت یا حکمران اس عہدے پر اپنی پسند کے شخص کو دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ اس عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش بھی ہر کسی کے دل میں رہتی ہے۔

ملک میں کئی دوسرے کھیل بھی تو ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کیوں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ پاکستان میں سب سے زیادہ ہائی پروفائل کھیل ہے۔ سب سے زیادہ سپانسرشپ نشریاتی حقوق اور میڈیا کوریج اسی کھیل میں رہی ہے اسی لیے کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے والی شخصیت بھی سب سے زیادہ شہ سرخیوں میں رہتی ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بیشتر چیئرمین سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جن پر یہ بات صادق آتی ہے کہ پیا جسے چاہے وہی سہاگن۔
نواز شریف کے سابقہ دور میں سینیٹر سیف الرحمٰن کے بھائی مجیب الرحمٰن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے منگلا کے کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیا کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا۔ ان کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف پی سی بی کے چیئرمین بنے۔ وہ بھی جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اعجاز بٹ کو صرف اس وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نہیں بنایا گیا کہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر تھے بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ چوہدری احمد مختار سے قریبی رشتے داری تھی۔

اعجاز بٹ کے بعد قرعہ فال آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی چوہدری ذکا اشرف کے نام نکلا لیکن 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئی جو ان عام انتخابات کے موقعے پر پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ تھے۔

ذکا اشرف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن اس تمام تر صورتحال کا ڈراپ سین یہ ہوا کہ شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور جب شہریارخان اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوئے تو نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین منتخب ہو گئے۔