جیت کا اعتماد آئندہ سیریز میں فائدہ دے گا، فخر زمان کو ڈبل سنجری یاد رہے گی: رمیز راجہ

 

 

سابق کپتان اور کرکٹ کمنٹیٹر رمیز راجہ نے پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرے ون ڈے کے بعد ایک ٹویٹ کیا تھا کہ اس سیریز میں کوئی پاکستانی بیٹسمین ڈبل سنچری کی طرف کیوں نہیں دیکھ رہا؟ اگر زمبابوے کے خلاف نہیں تو پھر کس کے خلاف؟

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فخرزمان نے اس ٹویٹ کا سب سے زیادہ اثر لیا کیونکہ صرف چار روز بعد وہ چوتھے ون ڈے میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔
رمیز راجہ بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ فخرزمان ایک بڑا فرق بن کر سامنے آئے ہیں۔

 

 

 

’فخرزمان نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بڑی ٹیموں کی معیاری بولنگ کو بھی غیرموثر بنادیا ہے۔ درحقیقت وہ اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان اور دوسری ٹیموں میں ایک واضح فرق بن کر سامنے آئے ہیں۔ ڈبل سنچری چاہے آپ کلب میچ میں بنائیں آسان کام نہیں ہے۔ فخرزمان اس سیریز میں لاجواب کھیلے۔‘

رمیز راجہ کا اپنے ٹویٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی بڑی کارکردگی کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے۔
’شروع میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس ٹیم کے لیے صرف جیتنا ضروری ہے اور ہونا بھی چاہیےتھا لیکن جب آپ اور آپ کے حریف میں بہت واضح فرق ہو تو پھر آپ کوئی ورلڈ ریکارڈ پرفارمنس دکھا کر ہی شہ سرخیوں میں جگہ بناسکتے ہیں اور یہی بات میں نےاپنے ٹویٹ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی ڈبل سنچری یا عالمی ریکارڈ پارٹنرشپ نہیں بنتی تو پھر مزا نہیں آئے گا۔‘

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف حاصل کردہ اعتماد ٹیم کو آنے والے میچوں میں کام آئے گا۔
’یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے لیے تیاری کے نقطہ نظر سے ٹھیک تھی۔ اس سے کھلاڑیوں کو جو اعتماد ملا ہے وہ اس سے آنے والی سیریز میں فائدہ اٹھائیں گے۔ اگلی سیریز کھیلتے وقت فخرزمان کو اپنی ڈبل سنچری یاد رہے گی۔ امام الحق کو اپنی ورلڈ ریکارڈ پارٹنرشپ اور سنچریاں یاد رہیں گی تاہم پاکستانی ٹیم کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اچھی اور بڑی ٹیموں کے خلاف اسے مزید کتنی پختگی کی ضرورت ہے۔‘

رمیز راجہ کے خیال آصف علی کی شکل میں ہمیں ایک قابل اعتماد بیٹسمین ملا ہے۔
’آصف علی ایک اچھی دریافت ہیں اگر ایک اچھی اوپننگ پارٹنرشپ قائم ہوجائے تو پھر آصف علی کو تیسرے نمبر پر بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ نوجوان کرکٹرز کے آنے سے پاکستانی ٹیم کی محدود اوورز کی کرکٹ میں شکل بدل گئی ہے نوجوان کرکٹرز نے اپنی صلاحیتوں سے سفید گیند کی کرکٹ میں ہمارا ڈی این اے بدل دیا ہے۔ ہر کھلاڑی لاجواب پرفارمنس دے رہا ہے۔‘