الیکشن 2018: پاکستان میں خواتین الیکٹیبلز کیوں نہیں ہو سکتیں؟

پاکستان کی سیاست میں گو کہ بعض خواتین کافی نمایاں رہیں لیکن پھر بھی سیاست میں خواتین کا کردار محدود ہی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے لیے پانچ فیصد خواتین کو عام نشستوں پر امیدوار نامزد کرنے کی شرط عائد کی ہے۔
پاکستانی سیاست میں آج کل الیکٹیبلز کا کافی چرچا ہے لیکن الیکٹیبلز یا ایسے افراد جن کا الیکشن جیتنے کا امکان تقریباً سو فیصد ہو، ان میں خواتین اور خصوصاً عام خواتین سیاسی کارکن نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بظاہر پاکستانی معاشرے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد اُن کے مسائل زیادہ آسانی سے حل کر سکتے ہیں۔
ایک عام ووٹر کو اپنے حلقے میں الیکشن جیتنے والے امیدوار سے یہ امید ہوتی ہے کہ وہ تھانہ کچہری اور زمین جائیداد اور پٹواری کے مسائل حل کروائے گا اور اُن کی نظر میں یہ سب کسی خاتون کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی لیے وہ عورتوں کے بجائے خواتین کو ترجیح دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین سیاسی کارکن الیکٹیبلز نہیں بن پاتیں۔

ذیل میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں الیکٹیبلز کون ہیں،کون کون سی خواتین الیکٹیبلز کے زمرے میں آتی ہیں اور خواتین الیکٹیبلز کیوں نہیں ہو سکتی ہیں۔
الیکٹیبلز یعنی ایسے امیدوار جن کی الیکشن میں کامیابی تقریباً یقینی ہے، پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کو الیکشن میں ایسے ہی نام درکار ہیں جن کی انفردی جیت انھیں الیکشن میں مجموعی برتری دلوا سکے اور اس میں خواتین تو بہت کم ہی ہیں۔

پاکستانی سیاست میں الیکٹیبلز خواتین کون کون ہیں؟
جہاں خواتین کا سیاست میں کردار کم ہے وہیں بے نظیر بھٹو کی مثال بھی موجود ہے جو نہ صرف الیکشن جیتیں بلکہ بڑی سیاسی جماعت کی سربراہ تھیں اور دو مرتبہ وزیراعظم بھی رہیں۔ یہ گنی چنی مثالیں ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین بھی الیکٹیبل رہی ہیں، بےنظیر تھیں، عابدہ حسین تھیں ‘لیکن ہمارا معاشرہ پدر شاہی پر مبنی ہے۔ اسی لیے عورتوں کا کردار یا اثر و رسوخ جتنا معاشرے میں کم ہے، اتنا ہی کم سیاست میں ہے اور اتنا ہی کم الیکشن میں نظر آتا ہے۔’

پاکستان میں الیکٹیبلز خواتین کا ذکر کیا جائے تو چند گنے چنے نام ہی سامنے آئیں گے۔ عابدہ حسین، صغریٰ امام، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، حنا ربانی کھر، ثمینہ خالد گھرکی، شازیہ مری، نفیسہ شاہ، تہمینہ دولتانہ، سائرہ افضل تارڑ وہ خواتین ہیں جو گذشتہ انتخابات میں عام نشستوں پر الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں آئی ہیں۔

لیکن ان تمام خواتین کی کامیابی میں اُن کے خاندان کا اثرروسوخ اور برادری کی کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب بااثر خاندانوں سے خواتین سیاست میں آتی ہیں تو لوگ انھیں ووٹ دیتے ہیں۔
انتخابات کے اعداد وشمار پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار طاہر مہدی کا کہنا ہے کہ ‘الیکٹیبلز کے لیے الیکشن جیتنا کوئی سائنس نہیں بلکہ انھیں اکنامکس آتی ہے۔ ان کے پاس پیسے ہیں اور متعلقہ حلقے میں ان کا پس منظر ہے، تاریخ ہے۔ لوگ ان کے حوالے دیتے ہیں کہ یہاں سے ان کے والد، چچا وغیرہ الیکشن میں کھڑے تھے۔’

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے شرط کو پورا کرنے کے لیے جنرل نشستوں پر خواتین امیدواروں کو نامزد تو کیا ہے لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے اُن حلقوں میں خواتین امیدوار نامزد کیا ہے جہاں سے اُن کے جتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مثال کے طور پر خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقے دیر بالا کا شمار اُن علاقوں میں ہوتا ہے جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور عمومی طور پر اس علاقے میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک زیادہ مضبوط ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے دیر بالا کے اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر حمیدہ شاہد کو صوبائی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
تجزیہ کار عظیمہ چیمہ کہتی ہیں کہ سیاسی جماعتیں جان بوجھ کر خواتین کو ان حلقوں میں ٹکٹیں دیتی ہیں جہاں وہ جیت نہیں سکتیں۔ ‘مثلاً بونیر جہاں سیاسی جماعتوں نے خواتین کی ووٹنگ پر پابندی لگا دی۔ ایسے علاقے میں آپ خواتین امیدوار کھڑا کریں تو نمبر اور کوٹہ پورا کرنے کے لیے انھیں نامزد کیا جا رہا ہے۔’

تجزیہ کار طاہر مہدیٰ کہتے ہیں کہ سیاست میں خواتین کی آزادانہ حیثیت نہیں ہے بلکہ انھیں پراکسی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ‘نجی محفلوں میں تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہ عورتوں کا کام تو نہیں ہے اور عورتوں کو گھریلو کام کرنے چاہیے۔’

پاکستانی معاشرہ قدامت پرست ہے اور یہاں خواتین کے مقابلے میں مردوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسے قدامت پرست معاشرے میں جہاں نظام اور ادارے بھی اتنے مضبوط نہ ہوں جتنے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں، وہاں لوگ طاقتور افراد کو متخب کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طاقت کا مرکز مرد ہیں نہ کہ عورتیں۔

تـجزیہ کار شاہد انور کہتے ہیں کہ ہمارے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی خواتین کو ووٹ نہیں دینے دیا۔
انھوں نے کہا کہ ‘اس ملک میں اہم رہنما بھی ایسے بیانات دے دیتے ہیں کہ عورت کا ووٹ دینا حرام ہے۔’
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں خواتین موجود ہیں اور مخصوص نشستوں پر اُن کی خاطر خواہ تعداد پارلیمان میں بھی موجود ہے لیکن پارلیمان ہی میں مرد اراکینِ کی جانب سے خواتین کو دیے گئے مختلف القابات اس بات کی بخوبی وضاحت کرتے ہیں کہ انھیں کتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے۔

مبصرین اور تجزیہ کاروں کے خیال میں خواتین کا الیکٹبلز نہ ہونا بھی معاشرے کے اسی رویے اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ جس میں عورت کی اپنی انفرادی سوچ کو پس پشت ڈال کر اُسے شو پیس کو طور پر پیش کیا جاتا ہے جب تک معاشرتی رویوں میں تبدیلی نہیں آئے گی سیاست میں بھی خواتین کے کردار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔