جب نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو کیا ہو گا؟

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز رواں ماہ کی 13 تاریخ کو پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں آمد پر انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
مریم نواز کی جانب سے لندن سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا وہ جمعے کی شام لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گے۔
ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے دونوں رہنماؤں کے استقبال کے لیے کارکنان کو لاہور آنے کی کال دے رکھی ہے۔
تاہم نواز شریف اور مریم نواز کی یہ آمد اور پھر ان کا استقبال اس قدر سادہ نہیں ہو گا۔ وہ جہاز سے اتریں اور ایئر پورٹ سے باہر آئیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان ان کا استعقبال کریں گے۔
صورتحال اور ماحول یقیناً اس سے مختلف ہو گا۔ مگر کیا ہو گا؟ اس حوالے کئی سوالات بھی گردش کر رہے ہیں۔
کیا انھیں ہوائی اڈے کے اندر ہی سے گرفتار کر لیا جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو باہر موجود کارکنان کا ردِ عمل کیا ہو گا؟
گرفتاری کے بعد کیا ہو گا؟ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے پاس کیا قانونی راستہ ہے؟
یاد رہے کے وہ ن لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف کو چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے دس برس قید بامشقت، مریم نواز کو سات برس قید جبکہ نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

گذشتہ ماہ وہ لندن میں زیرِ علاج بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے غرض سے لندن چلے گئے تھے اور فیصلے کو ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کرنے کی ان کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی تھی۔
کیپٹن (ر) صفدر کو نیب پہلے ہی راولپنڈی سے ایک طویل تعاقب کے بعد گرفتار کر چکی ہے۔ انھوں نے راولپنڈی میں ریلی کی صورت میں جمع کارکنان کے ہجوم میں گرفتاری دی تھی۔
ایسا ہی کچھ ن لیگ نواز شریف اور مریم نواز کی آمد پر چاہے گی کہ انھیں کارکنان کے درمیان سے گرفتار کیا جائے جس سے ان کو سیاسی فائدہ ہونے کی توقع ہے۔ تاہم نیب ایسی ہی صورتحال سے بچنا چاہے گا۔
مسلم لیگ ن نواز شریف اور مریم نواز کے لاہور میں بڑے پیمانے پر استقبال کے لیے پُرعزم نظر آتی ہے۔ پورے ملک سے کارکنان کو تیار کرنے کا بندوبست سینیٹر راجہ ظفرالحق کی قیادت میں ایک کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔

اس کمیٹی میں شامل مسلم لیگ ن کے صوبائی صدور خصوصی طور پر صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے کارکنان کو اکٹھا کرنے اور لاہور ایئر پورٹ لانے کے انتظامات کریں گے۔
ن لیگ کا کہنا ہے کہ یہ استقبال پُرامن ہو گا۔ منگل کے روز لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 13 جولائی ن لیگ کے قافلے کی قیادت ن لیگ کے صدر شہباز شریف خود کریں گے۔

’ہمارا ہر کارکن متحد ہے اور آج مشاورتی اجلاس میں ہر کارکن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے خود لوگوں کو ساتھ لے کر آئے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا قافلہ لاہور ایئر پورٹ جائے گا۔‘

ن لیگ کی جانب سے نواز شریف کی 85 سالہ والدہ شمیم اختر کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ نواز شریف کو گرفتاری سے بچانے خود لاہور ایئر پورٹ جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ’میں نواز کو گرفتار نہیں ہونے دوں گی۔ اگر گرفتار کیا تو میں بھی ساتھ جاؤں گی۔‘

تاہم کیا نواز شریف ایئر پورٹ سے باہر جمع کارکنان تک پہنچ پائیں گے؟ ن لیگ کے یہی توقعات ہوں گی۔ تاہم نیب اور حکومتی ادارے ایسی ہی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں۔
نیب کے پاس نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔ انھیں لاہور پہنچتے ہی گرفتار کیا جانا ہے۔ تاہم نیب اس شش پنج کا شکار ہے کہ انھیں کہاں سے گرفتار کیا جائے۔
اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں اور نیب کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ اس حوالے سے نیب اور وفاقی وزارتِ داخلہ کے درمیان مشاورتی اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں ہوا۔
مقامی ذارئع ابلاغ کے مطابق نیب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل نے نیب کے چیئرمین کو لکھے ایک خط میں نواز شریف اور مریم نواز کے گرفتاری کے بعد لاہور سے راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کیا ہے۔

نیب کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس خط کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت یہ تمام تجاویز ہیں۔
’نیب کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ایسی تمام تجاویز زیرِ غور ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ چیئرمین نیب کریں گے۔‘
تجویز کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو ایئر پورٹ کے اندر ہی سے حراست میں لیا جائے اور لاہور سے سیدھا اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا جائے۔
تاہم گرفتاری کے بعد انھیں عدالت کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے کیونکہ عدالت کے حکم نامے کے بغیر جیل حکام انھیں قید نہیں کر سکتے۔

نواز شریف اور مریم نواز کی لاہور آمد جمعے کی شام کا وقت ہے اور تب تک عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
اس صورت میں ممکنہ طور پر نیب دونوں ملزمان کو اپنی حراست میں رکھے گا اور اگلے روز عدالت میں پیش کرے گا۔ عدالت میں پیشی کے لیے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جج صاحب سے جیل کے اندر عدالت لگانے کی درخواست کی جائے۔

دوسری جانب حکومتِ پنجاب کے نگراں وزیرِ داخلہ شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا کردار محض معاونت کا ہو گا۔ صوبائی حکومت کو یقینی بنانا ہو گا کہ لوگوں کو ایئر پورٹ کے اندر نہ جانے دیا جائے۔

’ایئر پورٹ کے باہر اور شہر کے اندر سکیورٹی صورتحال سنبھالنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہوگی۔‘
اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ پر تمام حکومتی ایجنسیاں وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔ نیب کی طرف سے اگر مزید معاونت مانگی گئی تو فراہم کی جائے گی جس میں ہیلی کاپٹر فراہم کرنا بھی شامل ہے تاہم تاحال اس قسم کی کوئی درخواست انھیں موصول نہیں ہوئی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے ہیں۔ اس طرح ایک مرتبہ پاکستان آنے کے بعد وہ تب تک پاکستان سے باہر نہیں جا سکیں گے جب تک ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹایا نہیں جاتا۔

تاہم دونوں رہنماؤں نے لندن میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان واپس جانے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گرفتاری دینے کے بعد احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے سامنے اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چند قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ گرفتاری سے بچ بھی سکتے تھے اگر ان کے وکلا پہلے ہی سے اپیل دائر کر دیتے۔
بی بی سی سی بات کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل پاکستان عرفان قادر کا کہنا تھا کہ نواز اور مریم کے وکلا کو چاہیے تھا کہ وہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دیتے جس کے ساتھ فیصلے کی معطلی کی درخواست دی جاتی۔

’اگر عدالت فیصلے کی معطلی کی ان کی درخواست منظور کر لیتی تو پھر نواز اور مریم کو پاکستان آنے پر گرفتار کیے جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ وہ بعد میں جا کر عدالت کے سامنے پیش ہو سکتے تھے۔‘

ضابطے کے مطابق ملزمان احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے جس کے ساتھ وہ یہ درخواست یا سسپنشن آرڈر بھی منسلک کرتا ہے کہ جب تک اس کی اپیل پر فیصلہ نہیں آ جاتا، اس کے خلاف سزا کو معطل کر کے اسے جیل سے رہا کیا جائے۔

تاہم سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب راجہ عامر عباس کا کہنا ہے کہ جب آپ کو سزا ہو جائے اور اس کے بعد آپ عدالت سے بھاگے ہوں تو اس صورت میں ہائی کورٹ زیادہ تر معطلی کی درخواست مسترد کر دیتی ہے۔
’اس کے لیے پہلے ملزمان کو خود کو عدالت کے سامنے پیش یا سرنڈر کرنا پڑتا ہے اس کے بعد وہ اپیل اور اس کے ساتھ معطلی کی درخواست دے سکتے ہیں۔‘
اگر ان کی معطلی کی درخواست منظور ہو جائے تو انہیں جیل سے رہا کیا جا سکتا ہے جب تک ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں ہوتا۔
’تاہم اس نوعیت کے مقدمات میں نوے فیصد ہائی کورٹ سزا کے ِخلاف اپیل مسترد کر دیتی ہے۔‘
۔