چھوٹی آنت کی بیماری کا پتہ چلانے کے لیے اب کیمرہ کیپسول کھلایا جائے گا

سائنس کی روز افزوں ترقیات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیماری اس کی پہنچ سے باہر نہیں رہے گی۔
ایک عرصے تک کئی جان لیوا اور مہلک سمجھی جانے والی بیماریوں پر اب قابو پا لیا گيا ہے۔
لیکن ہماری چھوٹی آنت میں اب بھی بہت سی بیماریاں پلتی ہیں جو ابھی تک سائنس کی گرفت میں نہیں آ سکی ہیں۔
انڈوسکوپی سے بھی صرف بڑی آنت یا معدے تک ہی پہنچا جا سکتا ہے۔
اب تک چھوٹی آنت کی بیماریوں کی شناخت مشکل رہی ہے۔ لیکن اب ایک کیمرے کے وجود میں آنے سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چھوٹی آنت میں پیدا ہونے والی اور پلنے بڑھنے والی بیماریوں کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوگا۔

سائنسدانوں نے وائرلیس تکنیک کے استعمال کے ساتھ ایک دوا یا کیپسول تیار کیا ہے۔
اس کیپسول میں ایک چھوٹا سا کیمرہ نصب ہے جو معدے کی چھوٹی آنت کا حال بیان کرے گا۔ یہ مائکرو کیمرہ تصاویر اور ویڈیو دونوں بنا سکتا ہے۔

اس کیمرے سے ایک روشن سفید روشنی نکلتی جو آنتوں کی بافت پر پڑتی ہے اور اس کے ذریعے چھوٹی آنت کے اندرون کو باہر کمرے میں لگے سکرین پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جس کیپسول میں یہ کیمرہ فٹ ہوگا اسے ایسی چیز سے تیار کیا گیا ہے جو کھانا ہضم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل میں نہیں گلے گی۔ جانچ کے وقت مریض کے پیٹ پر ایک بیلٹ باندھی جائے گی جس میں ریڈیو سینسر اور ڈیٹا ریکارڈر نصب ہوگا۔

کیپسول کھانے کے بعد سکرین پر ہر سیکنڈ دو تصاویر آتی رہیں گی اور اگر اس میں ویڈیو آپشن کو آن کر دیا جائے تو وہاں کی لائیو فیڈ دیکھی جا سکتی ہے۔

مریض کے ہاضمے کے نظام سے یہ گولی دس سے 48 گھنٹے کے درمیان نکلتی ہے۔ 48 گھنٹے بعد مریض پھر سے ہسپتال آتا ہے جہاں تصاویر اور ویڈیو کی مدد سے کمپیوٹر سکرین پر چھوٹی آنت کی جانچ کی جاتی ہے اور کسی بیماری کے ہونے یا نہ ہونے کا پتہ لگایا جاتا ہے۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کیپسول جیسے اس کیمرے سے چھوٹی آنت میں کینسر کی موجودگی کا پتہ چل سکے گا۔