منی لانڈرنگ سکینڈل‘: آصف علی زرداری ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی اجلاس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ جعلی اکاؤنٹ کی تحقیقات کے حوالے سے ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کے بارے میں بتائیں۔

جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد منگل کو لاہور میں پیپلز پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بلاول بھٹو اپنی انتخابی مہم مختصر کر کے ملتان سے لاہور آئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آصف علی زرداری ایف آئی کے سامنے نہیں پیش ہوں گے بلکہ ان کی جگہ سابق چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک ایف آئی اے کے دفتر پیش ہوں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 29 جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت ایک درجن افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتراز احسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں آصف علی زرداری کا نام ایل سی ایل میں شامل کرنے کے معامالے کا جائزہ لیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ’ کوئی جرح نہیں ہوئی اور نہ ہی فردِ جرم عائد کی گئی اور بغیر کسی ثبوت کے آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے عہدیدار اور کارکنوں کو اس فیصلے پر حیرت ہوئی ہے۔‘

اعتراز احسن نے اس بارے میں مزید کہا کہ نااہل ہونے کے بعد بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا تھا۔

اس موقع پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ’ جس طرح بلاول نے پنجاب میں پیر جمائے ہیں لگتا ہے کچھ لوگوں کی نیند اڑ گئی ہیں اور ان حالات میں بھی ہم انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔‘

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کے بارے میں بتائیں۔

کراچی میں 29 جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو نوٹس میں آگاہ کیا ہے کہ اے ون انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ سے سمٹ بینک میں زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی منتقلی کی گئی ہے۔

تفتیشی افسر نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو آگاہ کیا تھا کہ وہ بدھ کو دوپہر ایک بجے اپنے اوریجنل شناختی کارڈ سمیت اپنا بیان ریکارڈ کرائیں اور اس رقم کی منتقلی کا جواز بیان کریں۔
ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی ہے کہ آصف علی زرداری کی رہائش گاہ بلاؤل ہاوس پر کسی نے نوٹس وصول نہیں کیا اس وجہ سے اسے گیٹ پر چپساں کیا گیا ہے جبکہ فریال تالپور کے مینیجر نے نوٹس وصول کیا ہے۔
اس نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ جان بوجھ کر پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 29 جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت ایک درجن افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس مقدمے میں سمٹ بینک کے وائس چیئرمین حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا پہلے ہی گرفتار ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنےآئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، اسے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

طارق سلطان نے اس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں چار ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے، جس سے مستفید ہونے والوں، متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق نصیر عبداللہ لوطہ نے چیئرمین سمٹ بینک کو 2 ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔