تھائی لینڈ: غار میں پھنسے بچوں کو بچانے والا غوطہ خور ہلاک

تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے ہوئے 12 لڑکوں اور ان کے کوچ کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں شامل تھائی لینڈ کی بحریہ کا ایک سابق غوطہ خور ہلاک ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 38 سالہ سمن گنان لاپتہ گروپ کو سامان فراہم کرنے کے بعد تھیم لوانگ غار کمپلیکس سے باہر نکل رہے تھے کہ آکسیجن کی کمی سے بےہوش ہو گئے۔
حکام کے مطابق سمن گنان کے ساتھی انھیں بچانے میں ناکام رہے۔
سمن کونان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ سرگرم ایتھلیٹ اور سائیکلسٹ تھے اور وہ تھیم لوانگ غار کمپلیکس کے قریب لاپتہ ہونے والے 12 بچوں کے لیے دو ہفتے قبل شروع کیے جانے والے ریسکیو آپریشن کا حصہ تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مذکورہ خوطہ خور نے اس سے پہلے تھائی لینڈ نیوی کی نوکری چھوڑ دی تھا تاہم وہ غار میں پھنسے ہوئے 12 بچوں کے گروپ کو بچانے کے لیے کیے جانے والے آپریشن میں مدد فراہم کرنے کے لیے واپس آئے تھے۔
ڈپٹی گورنر پاساکور بوونیالک چانگ رائے نے ریسکیو سائٹ پر صحافیوں کو بتایا کہ ایک سابق رضا کار جس نے ریسکیو آپریشن کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی گذشتہ رات دو بجے کے قریب مر گیا۔
تھائی لینڈ کی غار میں پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کے لیے شروع کیے جانے والے ریسکیو آپریشن میں ایک ہزار کے قریب افراد حصہ لے رہے ہیں۔ اس آپریشن میں نیوی کے غوطہ خور، فوجی اہلکار اور سویلین رضا کار شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کو غار میں پھنسے 12 بـچوں اور ان کے فٹبال کوچ کی ایک تازہ ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں وہ بہتر حالت میں نظر آ رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں انھوں نے مسکراتے اور بعض اوقات ہنستے ہوئے باری باری اپنا تعارف کروایا۔
نو دن تک لاپتہ رہنے کے بعد پیر کو اس گروپ کا پتہ چلا تھا کہ غاروں میں پانی بھر جانے کے سبب وہ ایک جگہ پھنس کر رہ گئے تھے لیکن اب انھیں کھانا اور دوائیں پہنچائی جا چکی ہیں۔
تاہم تھائی فوج کا کہنا ہے کہ ان افراد کو وہاں سے نکالنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں یا تو غوطہ خوری سکھائی جائے گي یا پھر پانی کے کم ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔