مردوں کی نسبت شراب عورتوں کے لیے زیادہ نقصان دہ

شراب کی تعریف میں شاعروں نے مبالغے سے کام لیا ہے لیکن بہت سے مذاہب میں اسے ‘برائیوں کی جڑ’ کہا گیا ہے۔
سائنس دانوں نے اس کے فوائد اور نقائص دونوں بیان کیے ہیں، تاہم نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ شراب مردوں اور عورتوں میں بھی امتیاز کرتی ہے۔
دنیا میں شراب پینے والے میں مردوں کی تعداد ہمیشہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے لیکن اب خواتین میں بھی اس کا چلن بڑھ رہا ہے۔
مردوں کے مقابلے میں اب بھی خواتین کی تعداد کم ہے لیکن مغربی ممالک کی نئی نسل پر یہ بات صادق نہیں آتی۔
بطور خاص سنہ 1991 سے سنہ 2000 کے درمیان پیدا ہونے والی لڑکیاں تو شراب نوشی میں لڑکوں کے شانہ بہ شانہ ہیں اور کئی بار وہ ان سے آگے بھی نکلتی نظر آتی ہیں۔
شراب سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شراب خواتین کی صحت کو زیادہ جلدی برباد کرتی ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے شراب نوشی کے غیر معمولی طریقوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ہی حد سے زیادہ شراب کے معاملے میں مردوں کے مقابلے میں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں خواتین کی زیادہ تعداد ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ خواتین مردوں سے زیادہ شراب پیتی ہیں بلکہ فکر کی بات یہ ہے کہ عورتوں کے جسم پر اس کے اثرات زیادہ اور تیزی سے ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے جگر کو شراب کو ہضم کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔
اس کے علاوہ جو عورتیں زیادہ شراب پیتی ہیں ان میں دوسرے اقسام کے نشے کی لت کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
سائنس کی زبان میں اسے ٹیلی سکوپنگ کہا جاتا ہے۔
زیادہ الکحل پینے کی وجہ سے نہ صرف جگر کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ شراب پینے والوں کے دل اور ان کے اعصاب بھی سست پڑنے لگتے ہیں۔
حالیہ چند دہائیوں سے پہلے شراب کے خواتین اور مردوں پر مختلف اثرات کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ اس سلسلے میں پہلی تحقیق سنہ 1990 میں کی گئی۔
دراصل سنہ 1990 تک الکحل کے اثرات پر تحقیق صرف مردوں کے حوالے سے کی جاتی تھی۔
اس کا سبب یہ تھا کہ شراب کو عام طور پر مردوں کے استعمال کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ خواتین اس کے استعمال سے دور ہی رہتی تھیں۔
پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مردوں پر شراب کے جو اثرات ہوں گے وہی خواتین پر بھی ہوں گے۔

لیکن جوں جوں لوگوں کے طرز زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی شراب کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔
بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے طبی تحقیق میں خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔
اس کے ساتھ ہی تحقیق میں صنفی فرق بھی توجہ دی جانے لگی۔
سنہ 1970 کی ایک تحقیق سے یہ پتہ چلتا ہے جو خاتون مکمل طور شراب میں ڈوب جانا چاہتی ہیں وہ اکثر بچپن میں جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہوتی ہیں۔ اس تحقیق کے بعد ہی صنفی بنیاد پر شراب کی تحقیق پر تیزی سے کام کیا جانے لگا۔

سنہ 2000 تک برین میپنگ یعنی دماغ کی جانچ سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ مردوں کے مقابلے عورتوں کا ذہن شراب کے تعلق سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔
لیکن بوسٹن یونیورسٹی میڈیکل سکول کی پروفیسر مارلن آسکر برمن کو اس میں سقم نظر آتا ہے۔.
انھوں ایک مدت تک شراب پینے والوں کے دماغ کی نقشہ بندی کی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کے مقابلے میں مردوں کے دماغ میں ریوارڈ سینٹر چھوٹا ہوتا ہے۔ یہ وہ حصہ ہوتا ہے جو کسی شخص کو کسی چیز کے لیے اکساتا ہے۔

انسانی دماغ کا یہی حصہ فیصلہ بھی کرتا اور شراب پینے والی خواتین میں نہ پینے والی خواتین کے مقابلے میں یہ حصہ بڑا ہوتا ہے۔
اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شراب پینے والی خواتین کے دماغ کو کم نقصان پہنچتا ہے۔ بہر حال ابھی اس بابت قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

حالیہ تحقیق سے ایک نئی چیز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جب شراب کی عادی خواتین کا علاج کیا جاتا ہے، تو ان کا رویہ بہت بہتر ہوتا ہے۔
شراب کے لت کی وجہ بھی مردوں اور عورتوں میں مختلف ہوتی ہے۔ خواتین جذباتی غم دور کرنے کے لیے شراب نوشی کرتی ہیں۔ جبکہ مرد سماجی دباؤ میں شراب پینے لگتے ہیں۔
دونوں کی شراب پینے کی وجوہات یکساں نہیں تو دونوں کا طریقہ علاج بھی یکساں نہیں ہو سکتا۔
مثال کے طور پر جنسی تشدد کی شکار خواتین میں شراب کی عادت چھڑانے کے لیے انھیں شراب کے عادی مردوں کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ وہ ان کی موجودگی میں خود کو محفوظ نہیں سمجھیں گی۔
اب خواتین کے لیے علیحدہ تحقیق کا زمانہ ہے اور اس کے مختلف نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔