یروشلم: دیوارِ گریہ کے قریب برہنہ فوٹو شوٹ پر ہنگامہ

 

مریسا پیپن

 

بیلجیئم سے تعلق رکھنے والی فنکارہ مریسا پیپن کو اسرائیل میں یہودیوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے سامنے برہنہ تصویر کھنچوانے پر تنقید کا سامنا ہے۔
مریسا پیپن نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک چھت پر کھینچی گئی اپنی تصویر شیئر کی جس کے پس منظر میں دیوارِ گریہ نظر آ رہی تھی۔
اس مقدس مقام کے منتظم ایک راہب نے اس واقعے کو ’گمبھیر اور افسوس ناک‘ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ مریسا پیپن کو گذشتہ سال مصر میں ایک قدیم خانقاہ میں برہنہ تصاویر لینے پر کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

 

 

مریسا پیپن نے اپنی ویب سائٹ پر اپنی زندگی گزرانے کے طریقے کو ’آزادی کی ایک برہنہ قسم کے طور پر پیش کیا ہے جہاں نقاب پھاڑ کر سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔‘
سنیچر کو ’دی وال آف شیم‘ کے عنوان سے ایک بلاگ پوسٹ میں ماڈل نے کہا کہ مصر میں ان کے تجربات نے اپنے ذاتی مذہب کو دنیا کے سامنے لانے کے بعد انھوں نے اپنی مذہبی اور سیاسی سرحدوں کو مزید وسعت دی ہے جہاں آزادی ایک پرتکلف چیز بن رہی ہے۔

مریسا پیپن نے کہا کہ ان کا اسرائیل کا تین روزہ دورہ اس کے بانی کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔
ان کے دورے کے دوران سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ بحیرۂ مردار میں اسرائیل کا جھنڈا لہرانے والے بانس کے ساتھ ٹانگیں پھیلا کر کھڑی ہیں۔
مریسا پیپن کی دیوارِ گریہ کو دیکھتے ہوئی تصویر نے سب سے زیادہ تہلکہ مچایا۔
یہودیوں کے مذہبی حکام نے فوراً ہی اس تصویر کی مذمت کی۔
دیوارِ گریہ کے ربی رابینووچ کے مطابق ’یہ ایک شرمناک، گمبھیر اور افسوس ناک واقعہ ہے جو مقدس مقامات پر آنے والے افراد کے احساسات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
خیال رہے کہ مریسا پیپن نے گذشتہ سال ستمبر میں مصر کے دورے پر ایک تشہیری مہم کے لیے دھوپ کا چشمہ پہن کر برہنہ تصاویر بنوائی تھیں جس کے بعد مصر میں بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
مریسا پیپن کے پاس حکام کی جانب سے تصاویر لینے کا اجازت نامہ نہیں تھا اور اس واقعے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اور ان کے کیمرہ مین نے ایک پولیس اہلکار کو رشوت بھی دی تھی جس نے اہرام مصر کے پاس ان کے شوٹ میں داخل اندازی کی تھی۔