ٹرمپ اور کم جونگ کے یادگاری مصافحے تصاویر میں

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے آخر کار مصافحہ کر لیا۔ لیکن کسی کو بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ مصافحے کا لمحہ کس وقت اور کیسے ہو گا۔ اس یادگار مصافحے کے لمحوں کو دیکھیں تصاویر میں۔

سنٹوسا جزیرے میں واقعے کپیلا ہوٹل میں امریکی اور شمالی کوریا کے پرچموں کے سامنے بچھے ہوئے ریڈ کارپٹ کی صفائی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کبھی کبھار ہی ایسا دیکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے جھنڈے ساتھ ساتھ رکھے گئے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنما برابری میں ہیں اور یہ کم جونگ ان کے لیے بڑی جیت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس لمحے کے لیے دونوں رہنماؤں نے ریہرسل کی ہے۔ ٹرمپ دائیں سے سٹیج پر آئے اور کم جونگ بائیں سے۔ 

ٹرمپ اور کم جونگ

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما ایک دوسرے سے کافی دور ہیں لیکن ٹرمپ نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کیا ہوا ہے۔ 

ٹرمپ اور کم جونگ

کم جونگ ان نے ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے وقت کہا ’آپ سے مل کر خوشی ہوئی مسٹر پریذیڈنٹ۔‘

یہ ایک مضبوط گرفت کا مصافحہ تھا لیکن ٹرمپ کے معیار سے اس کا دورانیہ چھوٹا تھا کیونکہ وہ لمبے دورانیے کے مصافحے کے عادی ہیں۔ 

کم جونگ ان کے لیے یہ مصافحہ جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ کیے جانے والے مصافحے سے کم ڈرامائی تھا۔ 

اور پھر صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ریڈ کارپٹ سے لے کر روانہ ہو گئے۔ کئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ پکڑ کر کم جونگ ان کو لے کر جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کنٹرول میں ہیں۔ 

ٹرمپ اور کم جونگ

اس تصویر میں دونوں رہنما بیٹھے ہوئے ہیں اور فوٹوگرافروں کو موقع دیا گیا کہ وہ تصاویر کھینچیں۔ اس کے بعد دونوں رہنما ملاقات کے لیے چلے گئے۔ 

یہ وقت تھوڑا عجیب تھا کیونکہ کم جونگ ان زمین کو دیکھ رہے تھے اور ٹرمپ اپنے ہاتھ مل رہے تھے۔ 

ٹرمپ اور کم جونگ

شمالی کوریا کے کے ساتھ اجلاس کے برخلاف اس ملاقات کی پہلے سے طے شدہ رسومات نہیں تھیں۔ 

اس تصویر میں ٹرمپ اور کم جونگ ان ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کم جونگ ان سے ایک قدم آگے ہیں۔ یہ ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔ 

ٹرمپ اور کم جونگ

اس ملاقات میں کامیابی کا سہرا ٹرمپ اپنے سر لیں گے تاکہ مخالفین پر شدید دباؤ ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب کم جونگ ان کے لیے یہ بھی جیت ہے کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ بیٹھے جو کہ ان کے والد اور دادا دونوں ہی نہ کر سکے۔

ٹرمپ اور کم جونگ

باہمی بات چیت کے بعد اور پھر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملائے۔