ملی مسلم لیگ کا ملک بھر سے اللہ اکبر تحریک کی ٹکٹ سے انتخابات لڑنے کا اعلان

 

 

پاکستان میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے منسلک سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) نے ملک بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر دو سو سے زائد امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک اور مذہبی سیاسی جماعت اللہ اکبر تحریک یعنی اے اے ٹی کے ساتھ اتحاد بنایا ہے اور ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن نہ ہونے کی صورت میں اِس جماعت کے ٹکٹ وہ اپنے امیدواروں کو دیں گے۔

ملی مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات تابش قیوم نے بتایا کہ ان کی جماعت عید کے بعد فیصلہ کرے گی کہ وہ ملک میں کسی بڑے مذہبی اتحاد کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں،’تاہم اللہ اکبر تحریک کے ساتھ ہمارا اتحاد ہے۔ ان کی جماعت اُن آزاد امیدواروں کی بھی پشت پناہی کرے گی جنھیں اللہ اکبر تحریک کے ٹکٹ نہیں ملے۔‘

اللہ اکبر تحریک نامی یہ مذہبی سیاسی جماعت ڈسٹرکٹ بہاولپور سے الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، اس کی قیادت ڈاکٹر میاں احسان باری نامی ایک شخصیت کر رہی ہے۔ اس جماعت کے سوشل میڈیا پر پیجز بھی موجود ہیں، تاہم فالوورز کی تعداد انتہائی کم ہے۔ جبکہ اس سیاسی جماعت کا انتخابی نشان گائے ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے معاملے پر حتمی رپورٹ 13 جون تک پیش کرے۔
پیر کو الیکشن کمیشن میں ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے معاملے پر کمیشن کے سندھ سے رکن غفار سومرو کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے سماعت کی۔
خیال رہے کہ اگست 2017 کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ نے نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی میدان میں داخل ہونے کا اعلان کیا تھا اور جماعت الدعوۃ سے منسلک رہنے والے سیف اللہ خالد کو اس پارٹی کا پہلا صدر منتخب کیا تھا۔

اکتوبر 2017 میں الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست اس وقت مسترد کردی تھی، جب وزارتِ داخلہ نے کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب میں اِس جماعت پر پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایم ایم ایل نے یہ فیصلے چیلنج کیا جس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملی مسلم لیگ کی درخواست کا ازسر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
اُدھر امریکہ نے بھی رواں برس اپریل میں ملی مسلم لیگ کو انتہا پسند گروہ لشکر طیبہ کی جماعت قرار دیتے ہوئے اس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد، جنرل سکریڑی فیاض احمد اور پانچ مزید کارکنوں کے نام بھی ان فہرستوں میں شامل کیے۔

پاکستان میں ہونے والے اس جماعت کے جلسوں میں بھی حافظ سعید کے پوسٹر لہرائے گئے۔
خیال رہے کہ امریکہ 2008 کے ممبئی حملوں کا منصوبہ ساز لشکر طیبہ اور اس کے سربراہ حافظ سعید کو مانتا ہے اور ان کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔