دنیا کے وہ کونے جہاں آکسیجن کم ہو رہی ہے

 

 

پورے ویتنام میں بوائی کا موسم ہے۔ ہر طرف کسان اپنی بانس کی معروف ٹوپیاں پہنے کھیتوں میں چاول کی فصل لگاتے نظر آتے ہیں۔
چاول کی کاشتکاری ویتنام میں خوراک کی رسد اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے مگر اس شعبے کی خوشحالی کی قیمت منفی ماحولیاتی اثرات ہیں۔
فصل میں اضافے کے لیے کسانوں کا انحصار نائٹروجن سے بنی کھاد پر ہوتا ہے۔ تاہم اضافی نائٹروجن دھل کر دریائوں، سمندر، یہاں تک کہ فضا میں جا پہنچتی ہے۔
ملک کے دارالحکومت ہنوئے سے جنوب مشرق میں تقریباً دو گھنٹوں کی مسافت پر میں تیئن ہائے کے مقام پر پہنچا۔
اس چھوٹے سے زرعی قصبے میں ایک بین الاقوامی تحقیقی تجربہ کیا جا رہا ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا کی مدد سے کیسے اضافی نائٹروجن کھاد کے استعمال کی مضر اثرات کو کم کیا جا سکتا۔

اس تحقیق کی سربراہ فیلڈ کروپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر فام ہونگ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’چاول دیگر فصلوں کی طرح اپنے اہم اجزا نائٹروجن کی کھاد سے حاصل کرتا ہے مگر تقریباً 50 فیصد نائٹروجن یا تو فضا میں اڑ جاتی ہے یا دھل کر (آبی ذخائر میں) پہنچ جاتی ہے۔‘
’اس کی وجہ سے نائٹروجن ڈائی آکسائڈ بنتی ہے جو کہ گرین ہاؤس گیس کے طور پر کاربن ڈائی آکسائڈ سے 300 گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔‘
چاول کا پندرہ روز کی عمر کا پودا لیبارٹری سے کھیت میں لا کر لگانے کا یہ موقع پہلی مرتبہ ہے کہ ڈاکٹر ہونگ اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ ٹریٹمنٹ کیا گیا (یعنی اس بیکٹیریا سے لیس) یا بغیر ٹریٹمنٹ کے بیج استعمال کرنے سے کاشت پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

عموماً یہ بیکٹیریا گنے کے پودوں میں پایا جاتا ہے اور اس سے چاول کے پودے کو مدد ملتی ہے کہ وہ فضا سے نائٹروجن لے، بجائے مصنوعی کھاد کے۔
ڈاکٹر ہونگ کا کہنا ہے کہ ’جیسے جیسے پودا بڑھتا ہے، بیکٹیریا اور چاول کے پودے کے درمیان ایک ایروبک رشتہ بنتا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بیکٹیریا فضا سے براہِ راست نائٹروجن ایک ایسی شکل میں جذب کر سکتا ہے جو کہ پودا استعمال کر سکے۔‘

1960 کی دہائی کی ’گرین ریولوشن‘ نے دنیا بھر میں نائٹروجن سے بنی کھاد اور کیڑا مار ادویات کے استعمال کو فروغ دیا۔
خوراک کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تعداد نے قحط کے خطرے سے لاکھوں جانوں کو بچا لیا۔ تاہم اس کھاد کا استعمال اس قدر غیر مفید ہوتا جا رہا ہے کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ نائٹروجن آبی ذخائر میں پہنچ رہی ہے۔

اضافی نائٹروجن کائی کو بڑھاتی ہے جو کہ حد سے زیادہ آکسیجن استعمال کر کے دیگر آبی حیاتیات کا ’سانس’ روک دیتی ہے اور اس سے ڈیڈ زونز بن جاتی ہیں۔
آج دنیا بھر کے سمندروں میں 500 ڈیڈ زون ہیں جو کہ گذشتہ 50 سالوں میں چار گنا بڑھی ہیں۔

سال میں تین مرتبہ لاکھوں ویتنامی کسان پانی میں رچے کھیتوں میں دسیوں لاکھوں چاول کے پودے لگاتے ہیں۔ سالانہ تقریباً تیرہ سو ڈالر کی آمدنی پر گزارا کرنے والی بوئی تھی سوت اپنی فضل کی کامیابی سے اپنے خاندان کا خرچہ چلاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم آلودگی اور ماحول کے بارے میں جانتے ہیں مگر ہماری فضلوں کو کھاد کی ضرورت ہے۔ ہم کسان ہیں ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

جب دنیا کے آدھے کسان اور فضلیں مصنوعی کھاد پر منحصر پیں، ہم ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر عالمی خوراک کیسے پوری کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہونگ کا تجربہ سائنسدانوں کے ایک عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے جو کہ نائٹروجن فکسٹگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں سنٹر فار کراپ نائٹروجن فکسیشن سے منسلک حیاتیات کے ماہر ڈاکٹر ٹیڈ کاکنگ وہ پہلے سائنسدان تھے جنھوں نے اس انمول بیکٹیریا کی صلاحیت دریافت کی۔ اس بیکٹیریا کو عام اصطلاح میں جی ڈی کہا جاتا ہے۔

لیباٹری میں کامیاب تجربوں کے بعد ان کی خواہش تھی کہ اسے کھیتوں میں ٹیسٹ کیا جائے۔
2011 میں انھوں نے سرمایہ کار پیٹر بلیزرڈ کے ساتھ مل کر ایک کمپنی شروع کی جس کا ایزوٹک رکھا۔ ایزوٹک ڈاکٹر ہونگ کے تجربے کی مالی معاونت بھی کر رہی ہے۔
پیٹر بلیزرڈ کو امید ہے کہ ایزوٹک آئندہ موسمِ بہار تک اس سپر بیکٹیریا کو مایہ اور پاؤڈر کی شکل میں فروخت کر سکے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہماری توجہ امریکہ اور یورپ میں مکئی اور سویا کی فصلوں اور ویتنام، تھائی لینڈ اور فلپائن میں چاول کی فصلوں پر مرکوز ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ویتنام میں ہمیں نائٹروجن کھاد کے استعمال میں 50 فیصد کمی جبکہ فصل کی پیداوار میں 15 فیصد اضافے کے نتائج ملے ہیں۔‘
تاہم اس حوالے سے ہر کوئی مطمئن نہیں۔
برطانیہ میں روتھ سٹیڈ ریسرچ کے مائیکرو بائیو لوجسٹ ڈاکٹر ٹم مائشلائن کو اس بات پر شک ہے کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تمام فصلوں میں استعمال کی جا سکے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دنیا ایک بہت وسیع جگہ ہے جہاں مختلف موسم، موسمی حالات، فصلیں اور مٹی کی قسمیں ہیں۔‘
ان کے مطابق ’یہ ایک اچھا خیال ہے کہ ایک ہی حل دنیا کے سارے مسائل کا حل ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو میں حیران ہوں گا۔‘
ڈاکٹر ہونگ کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ انتہائی ساز گار ماحول میں بھی چاول کی کچھ قسمیں اس بیکٹیریا کے ساتھ دیگر قسموں کے مقابلے میں بہتر کام کرتی ہیں۔
تاہم ڈاکٹر ہونگ کی احتیاط اور صبر پھل دے رہی ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلا تجربہ مکمل طور پر ناکام تھا مگر ہم نے بیکٹیریا کو واپس لیباٹری میں لے گئے اور بارہا ٹیسٹ کیے جب تک کہ ہمیں درست فارمولا نہیں مل گیا۔‘
’میں امید کرتی ہوں کہ میرا کام عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کو یقینی بونائے گا اور ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کو تحفظ فراہم کرے گا۔‘
۔