پراسرار بیماری‘ کا خدشہ: امریکہ نے چین سے متعدد اہلکار واپس بلا لیے

 

 

امریکہ نے چین سے متعدد اہلکاروں کو ’پراسرار بیماری‘ کے خدشات کے باعث واپس طلب کر لیا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے ان کا کیوبا میں عملہ متاثر ہوا تھا۔
چین کے جنوبی شہر گوانژو میں کام کرنے والے ملازمین نے بتایا کہ انھیں عجیب آوازیں سنائی دی تھیں۔
کیوبا کے سفارت خانے میں کام کرنے والے امریکی عملے کے 24 اہلکاروں نے گذشتہ سال ایسی ہی آوازوں کے بارے میں اطلاع دی تھی۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت یا کوئی ایجنسی شاید صوتی ہتھیار کے ذریعے امریکہ کو نشانا بنا رہی ہے جو کے آج کے دور میں ایک نئی قسم کا ہتھیار ہے۔
یہ غیرمعمولی واقعات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چین اور امریکہ کے تعلقات تجارتی جنگ کے باعث کشیدگی کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

 

 

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس ماہ کے آغاز میں اپنے سٹاف کو ایک انتباہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چین میں کام کرنے والے ایک ملازم نے ’نرم اور مبہم‘ آوازوں کی اطلاع دی تھی جو کہ غیر معمولی تھیں اور ان آوازوں سے دباوُ کا احساس پیدا ہوتا تھا۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ان اطلاعات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے تاہم اسے ابھی تک اس کی وجوہات معلوم نہیں ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنے عملے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں شدید صوتی معاملے کا سامنا ہو جس میں غیر معولی یا شدید آوازیں سنائی دیں تو وہ کسی محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائیں۔

امرایکی اہلکاروں کو شک ہے کہ چین میں بھی شاید اہلکاروں کو اسی دماغی بیماری یعنی ٹروما کا سامنا کرنا پڑا جس کا سامنا کیوبا میں سفارتی عملے کے اہکلاروں نے کیا تھا۔
سٹیسٹ ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں کو ان کے مشن کے طبی عملے کو ایسی نئی علامات ظاہر ہونے پر اطلاع دینی چاہیے۔
خیال رہے کہ امریکی وزراتِ خارجہ نے گذشتہ ماہ اپنی عوام کو چین میں غیر معمولی صوتی یا نظر کے مسائل کے بارے میں محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی پراسرار صورت حال میں انھیں آگاہ کریں۔

امریکی حکام نے سنہ 2017 میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کیوبا میں ان کے سفارت خانے پر صوتی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سفارت خانے کے 19 اہلکاروں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ صوتی حملے میں صوتی آلات سے نہ سنائی دینے والی صوتی لہریں نکلتی ہیں جو بہرے پن کا باعث بنتی ہیں۔ کیوبا نے اس حملے میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیق کر رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک ٹیم کو گوانژو بھیجھا تھا اور ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی تھی جس کا کام چین اور کیوبا میں ہونے والے پُراسرار حملوں کی نگرانی کرنا تھا۔
کیوبا نے امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی جبکہ امریکہ نے کیوبا کی حکومت پر ان مشتبہ حملوں کا الزام عائد نہیں کیا تھا۔
واضح رہے کہ صوتی حملے کی صورت میں مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں سر درد، الٹی آنا، مستقل طور پر سماعت سے محروم ہونا اور دماغی نقصان ہونا شامل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ کی خاتون ترجمان ہیدر ناؤٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی طبی ماہرین اس بیماری کا تعین کرنے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں گے جس سے یہ اندازہ لگایا جائے گا یہ نتائج ماضی میں متاثرہ حکومتی اہلکار کے ساتھ ممکنہ طور پر مطابقت رکھتے ہیں یا پھر یہ اُن سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔