میں خواتین کی عزت کرنا سیکھوں گا‘

 

 

سوشلستان میں اس ہفتے انتخابات چھائے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ خدیجہ صدیقی اور ریحام خان کا چرچا رہا۔
خدیجہ کے خلاف فیصلے نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کو بولنے اور اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا۔
مگر سب سے زیادہ بحث ریحام خان کی کتاب پر ہوئی جو اشاعت سے پہلے ہی موضوع بنی ہوئی ہے۔ مگر اس ہفتے ہم گل بخاری کے خلاف استعمال کی گئی زبان اور اس کے اثرات پر بات کریں گے۔
پاکستانی سوشل پر گالی دینا بہت آسان ہے۔ ماں بہن کی پوری گالی نہ دینی ہو تو حروف لکھ کر لوگ بات کرتے ہیں مگر گالی ضرور لکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

 

 

 

بقول سوشل میڈیا کے چند اکاؤنٹس کے ‘جنھیں‘ گھر میں کوئی اہم بات کرتے وقت اٹھا دیتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر ریحام خان کی کتاب اور پری پول رگنگ پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں۔‘
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی ٹویٹس اور تقاریر کے کلپ سوشل میڈیا پر ہیں جن میں ریحام اور دوسری خواتین کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کی گئی ہے جس فہرست میں تازہ اضافہ گُل بخاری ہیں۔

مگر سوشل میڈیا پر گالی دینے اور گھٹیا زبان استعمال کرنے سے آپ کی ساری زندگی تباہ ہو سکتی ہے۔
اس صورت حال کا سامنا نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علم محمد مرسلین کو حال ہی میں ہوا جن کی ڈگری اور ساری محنت ان کے ہاتھ سے جاتے جاتے بچی۔
محمد مرسلین نے گُل بخاری کے بارے میں پانچ جون کو ایک ٹویٹ کی۔ اس جیسی سینکڑوں ٹویٹس سوشل میڈیا ہر موجود ہیں جن میں ریحام کو کئی قسم کے گھٹیا کمنٹس کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اور یہ گُل بخاری کے بارے میں نہیں بلکہ ریحام خان، ملالہ اور ہر اس عورت کو سہنا پڑتا ہے جو ایک مخصوص نقطۂ نظر سے ہٹ کر بات کرتی ہے۔
مگر نسٹ نے اس صورت حال پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور یونیورسٹی نے ٹویٹ کی کہ ‘نسٹ انتظامیہ نے اپنے طالب علم محمد مرسلین کی جانب سے تبصرے کا نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔’

مرسلین چھ جون کو گریجوئیٹ کرنے والے تھے تو بہت سے لوگوں نے یونیورسٹی سے ان کی ڈگری معطل یا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مہرین زہرہ ملک نے لکھا ‘نوجوانوں کی حقیقی رنگ میں بحالی بہت بہتر اور تعمیری ہے بجائے اس کے کہ ان کی ڈگریاں ختم کی جائیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں۔ امید ہے مرسلین نے درست سبق سیکھا اور حقیقت میں یہ بات سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ اس کا تبصرہ کیوں غلط تھا۔’

فصیح ذکا نے لکھا ‘نسٹ کے فیصلے کے لیے دل سے عزت کرتا ہوں جو انسانی بھی ہے اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ہے۔’
مگر یونیورسٹی کی جانب سے کارروائی کے بعد مرسلین نے اپنے فیس بُک اور ٹوئٹر پر مندرجہ ذیل میسیج پوسٹ کیا جسے NUST نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا اور یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
مرسلین نے لکھا ‘میں گل بخاری کے خلاف اپنے تبصرے اور اس سے جو تکلیف پہنچی اس پر معذرت خوا ہوں۔ میرا تبصرہ اور الفاظ کا چناؤ بالکل قابلِ قبول نہیں تھا۔ نسٹ کا سینٹر فار کونسلنگ اینڈ کریئر ایڈوائزری میری کونسلنگ کرے گا اور میں لازمی کمیونٹی سروس کروں گا تاکہ خواتین کی عزت کرنا سیکھ سکوں۔’

گل بخاری نے مرسلین کی معذرت والی ٹویٹ پر لکھا ‘معذرت کرنے کا شکریہ۔ تم اتنی ہی عمر کے ہو گے جتنا میرا بیٹا ہے۔ میری خدا سے دعا ہے کہ آپ کبھی بھی کسی عورت پر جنسی تشدد کا کبھی نہ سوچیں، نہ صرف یہ کہ ایک ایسی عورت پر جو آپ کی ماں کی عمر کی ہو۔ میری آپ کے مستقبل کیلئے نیک تمنائیں۔’

اس ہفتے کی تصاویر
فٹبال کا عالمی کپ شروع ہونے میں چند دن ہی باقی ہیں اور جہاں دنیا بھر میں فٹبال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کا سب کو بے چینی سے انتظار ہے وہیں پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے علاقے لیاری میں بھی فٹبال کے چاہنے والی کی کمی نہیں۔ لیاری میں ابھی سے اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کے جھنڈے دیواروں اور چھتوں پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں عید الفطر میں چند دن ہی باقی بچے ہیں اور ماضی میں ان دنوں میں دوستوں، رشتہ داروں، عزیزوں اور اپنے پیاروں کو عید کی مبارک باد کے پیشگی کارڈ بھیجے جاتے تھے اور اسی وجہ سے ڈاکخانوں میں ان کارڈز کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور عملے کو کام سے فرست نہیں ہوتی تھے لیکن اب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے سب بدل کر رکھا دیا ہے اور یہ روایت آخری دموں پر ہے۔