افغانستان: 2017 میں 1400 خواتین نے خودکشی کی کوشش کی؟

 

 

جمیلہ (فرضی نام) نے شادی کے لیے اپنے منگیتر کا چھ سال انتظار کیا۔
’وہ بار بار اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ میرا رشتہ مانگنے آیا اور اب جب میں جوان نہیں رہی اور چھ سال سے اس کی منگیتر ہوں تو وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ ‘
18 سالہ لڑکی جو بارہ سال کی عمر میں ایک شخص سے منسوب کر دی گئی تھی اور محسوس کر رہی ہے کہ اسے دھوکا دیا گیا۔
جمیلہ کا کہنا تھا ’میں اب جینا نہیں چاہتی۔ اسی لیے میں نے چوہے مار زہر سے خودکشی کی کوشش کی۔‘
انہیں دو ہفتے پہلے ان کی ماں ہیرات کے ہسپتال لائی تھیں جہاں ان کی جان بچائی گئی۔
ان کی کہانی افغاسنتان کی بیشتر عورتوں کی کہانی جیسی ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق مغربی صوبے ہیرات میں خواتین کی خود کشی کا رجحان باقی افغان آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
ہیرات میں طبی حکام کے مطابق صرف 2017 میں ہی 1800 افراد نے خود کشی کی کوشش کی جن میں 1400 خواتین تھیں۔ ان میں سے 35 اپنی جان لینے میں کامیاب رہیں۔
یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہے جب 1000 کوششیں کی گئیں۔
یہ تعداد ان خواتین کی تعداد سے بھی بہت زیادہ ہے جو جنگ کا نشانہ بنیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق گذشتہ برس مسلح لڑائی کا شکار ہونے والی خواتین میں 359 ہلاک جبکہ 865 زخمی ہوئیں۔
افغان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن اور مقامی میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 3000 افغان خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک بھر میں پیش آنے والے ان واقعات میں سے نصف ہیرات میں ہوتے ہیں۔
افغان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ افغانستان میں زیادہ تر لوگ خودکشی کے معاملات کی حکام کو اطلاع نہیں کرتے۔
ہیرات میں بی بی سی کے نمائندہ محمد قاضی زادہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مذہبی دیہاتی علاقوں میں خود کشی کو بدنامی اور غیر اسلامی قرار دیا جاتا ہے۔
قاضی زادہ کا کہنا تھا ’ان لوگوں کے کئی دوسرے مسائل ہیں جس کی وجہ سے خاندانوں میں خود کشی کی کوشش پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔‘
ہیرات کی خواتین خودکشیاں کیوں کر رہی ہیں اور ان کی شرح مقامی حکام کے لیے پریشان کن ہے۔
افغان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کی اہلکار حوا عالم نورستانی کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں اضافے کی وجہ ’بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل، گھریلوں تشدد، جبری شادیاں اور عورتوں کو درپیش کئی سماجی دباؤ ہیں جن میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

ان کے بقول ’ہیرات بڑے اور روایتی صوبوں میں شامل ہے۔‘
’یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ ان میں زیادہ تفصیلات نہیں ہیں تاہم ہم اتنا جان پائے ہیں کہ ہیرات میں خود کشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔‘
اگرچہ افغانستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اندازے کے مطابق 10 لاکھ افغانی ذہنی دباؤ کے مسائل کا شکار ہیں جبکہ بارہ لاکھ افراد کو انزائٹی کے مسائل درپیش ہیں۔

افغانستان میں مسلح لڑائی کو سنہ 2018 میں چالیسواں سال شروع ہو گیا اور ڈبلیو ایچ او کے مطابق ذہنی مسائل کا شکار افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔
اس کے علاوہ یہاں عورتوں کے خلاف تشدد بھی بہت زیادہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے اندازوں کے مطابق 87 فیصد افغان عورتوں جسمانی، جنسی یا نفسیاتی تشدد میں سے کسی نہ کسی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 62 فیصد کو مختلف اقسام سے استحصال کا سامنا رہتا ہے۔
خواتین کے دباؤ کا شکار ہونے اور فرار کے لیے خودکشی کرنے کی ایک وجہ جبری شادیوں کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔
نورستانی کے مطابق ’خواتین کے خودکشی کی وجہ استحصال ہے جو خاندان سے ہی شروع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جبری شادیاں۔ خواتین کی مرضی نہیں سنی جاتی اور انہیں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ ‘
’سنہ 2017 میں یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہائی افغان لڑکیوں کی شادی ان کے 18 سال کے ہونے سے پہلے ہی کر دی جاتی ہے۔‘
سنہ 2017 میں دی ایشیا فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق افغانستان میں خواتین کے لیے ملازمتوں اور مواقع کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ہیرات کے ڈاکٹرز نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کو لوگ اپنی جان لینے میں کامیاب رہے انھوں نے مختلف طریقہ اپنائے جن میں خود کو گولی مارنا، دوا کی زیادہ خوراک اور چوہے مار زہر کھانا شامل ہے۔
یہ طریقہ خود سوزی سے زیادہ کثرت سے اپنایا جا رہا ہے جو ماضی میں خواتین کا خودکشی کے لیے عام طریقہ تھا۔
ہیرات کے مرکزی ہسپتال کے ترجمان محمد رفیق شیرازی کا کہنا تھا ’گذشتہ چند برسوں میں لوگوں کے لیے دواؤں اور دوسرے مواد تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ یہ کئی دکانوں پر دستیاب ہیں۔‘
لوگوں کی زہریلے مواد تک باآسانی رسائی مقامی حکام کے لیے پریشان کن امر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے گذشتہ برس متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کرنے کو کہا تھا کہ لوگوں کو جان لیوا مواد تک رسائی کو محدود کیا جا سکے۔‘
عالمی ادارۂ صحت کے 2017 کے اعداد وشمار کے مطابق زہریلے مواد تک رسائی اور خودکشی کے درمیان تعلق بہت پہلے ہی واضح ہو چکا ہے۔
اس بات کا علم پہلی مرتبہ 1995 میں ہونے والے ایک مطالعے میں ہوا جب ایک خطرناک نباتاتی زہر کی دریافت کے بعد خودکشی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس زہر پر 1981 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
ہیرات میں طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خودکشی کی شرح میں کمی نہیں ہوگی کیونکہ تداراک کی حکمتِ عملی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نبیل یار جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ خواتین کی خودکشیوں کے محرکات اور وجوہات معلوم کرنے کے لیے قومی منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل سے پر اثر طریقے سے نمٹا جائے۔‘
کابل میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک قومی منصوبہ بنایا ہے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار لوگوں کو علاج فراہم کیا جا سکے۔
صحت کے نائب وزیر فدا محمد نے مقامی میڈیا میں اجاگر کیے جانے والے اس بحران کو تسلیم کیا اور کہا ’صحت عامہ کی وزرات اعداد وشمار اکھٹے کر رہی ہے اور اس کی بنیاد پر وہ قومی منصوبہ بنائیں گے۔‘
نورستانی کے بقول ’اب انسانی حقوق کے کمیشن کا کام ہے کہ وہ دیہی علاقوں تک آگہی کی مہم چلائیں تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ کس سے مدد طلب کریں۔`