کیسی ہوتی ہیں عورتوں کے حقوق کی علمبردار خواتین؟

 

 

کیسی ہوتی ہیں عورتوں کے حقوق کی علمبردار خواتین؟ اس کے دو جواب ہو سکتے ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’فیمنسٹ‘ وہ لڑکیاں ہیں جو چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سگریٹ پیتی ہیں اور رات بھر پارٹی کرتی ہیں۔ جو دستیاب ہوتی ہیں اور جنھیں بغیر ذمہ داری والے رشتے بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور لڑکوں کو خود سے کم تر سمجھتی ہیں۔ جو برابری کے نام پر وہ سب کرنے کی ضد کرتی ہیں جو لڑکے کرتے ہیں۔ مثلا گالی دینا وغیرہ۔

 

 

لیکن ’فیمنسٹ‘ ہوتی کون ہیں؟
فلم ‘ویرے دی ویڈنگ‘ کی ہیروئنز بھی میڈیا سے ہونے والی ہر بات چیت میں یہی کہتی رہیں کہ یہ فلم چار آزاد خیال لڑکیوں کی کہانی ہے ‘فیمنسٹس’ کی نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ اس فلم میں چار ہیروئنز چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں، شراب سیگریٹ پیتی ہیں، رات رات بھر پارٹی کرتی ہیں اور ان میں سے ایک ہیروئن کو ایک مرد دستیاب سمجھتا ہے اور شراب کے نشے میں دونوں میں جسمانی رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے جس کے بعد بھی ہیروئن اس مرد کو خود سے کمتر سمجھتی ہے۔

فلم میں گالیاں تو جیسے دعا سلام کی طرح استعمال ہوئی ہیں۔
ایک ہیروئن تو اپنے شوہر کی تعریف ہی اس کے سیکس کرنے کی قابلیت پر کرتی ہے۔ اب ایسے میں عام خیال میں تو وہ فیمنسٹ ہی ہوئیں۔
فلم چار عورتوں کے ارد گرد بنائی گئی ہے جس میں کوئی مرد مرکزی کردار میں نہیں ہے اور یہ کہانی کسی مرد کے گرد نہیں گھومتی۔
جب میں فلم دیکھنے گئی تو سوچا کے بدلتی دنیا کی بدلتی عورت کی کہانی ملے گی جس کی کہانی صرف محبت اور اس کے بعد شادی نہیں ہو گی۔لیکن پردے پر عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔
فلم میں شادی کی اپنی جگہ ہے اور باقی رشتوں کی اپنی جگہ جس میں سہیلیوں کی وہ گہری سمجھ ہے جو عورتیں بھی ویسی ہی بنا لیتی ہی جیسے مرد۔۔
الگ الگ زندگیوں کو گوندنے والی وہ پہچان جو ہمارا معاشرہ ہماری جنس کی بنیاد پر ہمیں دیتا ہے۔
عورتوں میں اکثر شادی کرنے کا دباؤ، کریئر بنانے کی خواہش، بچے دیر سے پیدا کرنے کی لڑائی ہوتی ہے کہانی میں وہ سب ہو سکتا تھا لیکن کہانی ایک سطح پر ہی سمٹ کر رہ گئی اور کچھ حد تک عام خیال والی فیمنسٹ عورتیں ہی ملیں۔

یہ فلم عام سے اصل کا سفر طے نہیں کر پائی۔ فلم نے ایک قدم آگے بڑھایا تو تین قدم پیچھے رہ گئی۔
اب اصل فیمنسٹ عورتوں کی بات کی جائے تو وہ اپنی بات شراب سگریٹ اور گالی کے بغیر بھی بےباک طریقے سے کہہ سکتی ہیں۔ انھیں مرد کو ملنے والی ہر آزادی حق کے طور پر چاہیے۔ محض مردوں کی طرح برتاؤ کرنا آزادی کی علامت نہیں ہے۔

فیمنِسٹ ہونا بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ وہ مردوں کو نیچا دکھانا یا ان کے خلاف ہونا نہیں ان کے ساتھ چلنا ہے۔
وہ خوبصورتی ہے جو ہوٹل میں بِل چکانے کی چھوٹی سی ضد میں ہے۔ نوکری کرنے یا گھر سنبھالنے کی آمادگی میں ہے۔ اور یہ جانتے ہوئے آوارہ گردی کرنے میں ہے جب دل میں یہ سکون ہو کہ مجھے محض ایک استعمال کی چیز نہیں سمجھا جائے گا۔

صحیح کہا تھا اس فلم کی ہیروئنز نے کہ یہ فیمنِسٹ فلم نہیں ہے۔
انتظار رہے گا اس فلم کا جسے فیمنزم کی اصل سمجھ کے ساتھ بنایا گیا ہو اور جسے بنانے والوں کو خود کو فیمنِسٹ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہ ہو۔