سات ہزار میٹر سے بلند چوٹی سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون

 

 

عظمیٰ یوسف ایسی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں جنھوں نے کوہ پیمائی کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن اِس کا شوق اور جنون اُنھیں پاکستان میں موجود سپینٹک نامی پہاڑی چوٹی کو سر کر وا گیا جو سات ہزار میٹرز سے زیادہ بلند ہے۔

اُن کا کہناہے کہ خواتین کوہ پیمائی کے شعبے میں بہت نام کما سکتی ہیں لیکن سماجی مشکلات کی وجہ سے وہ مہم جوئی کا حصہ نہیں بن پاتیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی عظمیٰ دو بچوں کی والدہ ہیں اور اُنھیں کوہ پیمائی کا شوق بچپن سے تھا لیکن وہ اب شادی کے بعد اپنے اِس شوق کو پورا کرپائی ہیں۔
اُنھوں نے بتایا ‘میرے بچے جب اِس قابل ہو گئے کہ وہ میرے بغیر بھی رہ سکتے ہیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے شوق اور جنون کو پورا کروں، یہ دبی ہوئی خواہش تھی جو وقت آنے پر اللہ نے پوری کی۔’
ایک سوال کے جواب میں عظمی نے بتایا کہ اُن کو گھر والوں کی حمایت حاصل رہی ہے لیکن اکثر خواتین کو اِس کے برعکس مسائل کا سامنا ہے۔
‘مہم جوئی کے دوران آپ کو ہفتوں ہفتوں گھر سے دور اور انجان لوگوں کے درمیان وقت گزارنا پڑتا ہے، ایسے راستوں پر سفر کرنا پڑتا ہے جہاں کئی دنوں تک خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو پاتا، ایک عورت کے لیے یہ مشکلات بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن اگر گھر سے حمایت حاصل ہو تو پھر یہ مشکل نہیں۔’

عظمیٰ یوسف سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو اِس مہم جوئی کی جانب آنا چاہیے باوجود اِس کے کہ یہ ایک مہنگا شوق ہے اور اِسے پورا کرنے کے لیے بہت سی ضرورتیں روکنی پڑتی ہیں۔

عظمیٰ یوسف وہ واحد پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں جنھوں نے سات ہزار میٹر سے زیادہ بلند پہاڑی چوٹی سپینٹک سر کی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ کوہ پیمائی کی مہم کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب اُنھیں اور اُن کے ساتھیوں کو جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ اُن کے مطابق جب وہ سپینٹک پیک سر کر کے واپس آرہی تھیں تو اُن کے پہاڑ پر چڑھنے والے نوکیلے جوتے (کریمپون) آپس میں ٹکرا کر پھنس گئے تھے جس کے سبب وہ گر گئیں تھیں اور خاصہ نیچے جا کر رکیں تھیں۔

ایک اور خطرناک واقعے کے بارے میں عظمیٰ یوسف نے بتایا کہ جب وہ سپینٹک سر کر کے واپس آرہی تھیں تو طوفان آگیا، اُن کے پاس خوراک ختم ہوگئی تھی، اندھیرے کی وجہ سے وہ اور اُن کے گائڈز راستہ بھول گئے تھے۔

‘اُس وقت ہم کو اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور ہم سب برف پر گر گئے تھے لیکن چند ہی گھنٹوں بعد موسم اچانک صاف ہو گیا اور ہم کو اپنا کیمپ نظر آنے گا۔’

عظمیٰ نے بتایا کہ وہ اب براڈپیک نامی آٹھ ہزار 47 میٹرز بلند پہاڑی چوٹی سر کرنے جارہی ہیں اور اُنھوں نے اِس نئی مہم جوئی کے لیے تیاریاں کر لی ہیں۔
اُن کے مطابق ‘پہلے سر کی جانے والی چوٹیوں کا تجربہ تو ہے ہی اور اب میں نے اپنی ورزش اور تربیت بھی بڑھا دی ہے۔ دو تربیتی کورسز کیے ہیں۔ ایک مہم جوئی کی ہے جس میں پانچ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر رات گزاری ہے تاکہ موسم سے آشنا ہو سکوں۔’

پاکستان میں اِس سے قبل بھی چند خواتین کوہ پیمائی میں حصہ لے چکی ہیں جن میں ثمینہ بیگ، معصومہ علی کھوکھر اور ثمر خان شامل ہیں جنھوں نے مخلتف اوقات میں مخلتف چوٹیاں سر کی ہیں۔ لیکن سب خواتین نے اِس شوق کے مہنگے ہونے اور خواتین کے اس میں حصہ نہ لے پانے کی شکایت کی ہے۔