آسٹریلیا: جما ہوا انار کھانے سے خاتون ہلاک

آسٹریلیا میں ایک خاتون جمے ہوئے اناروں کے ایک پیکٹ سے منتقل ہونے والے ہیپاٹائٹس اے کے وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہو گئی۔

طبی حکام کا کہنا ہے کہ 64 سالہ آسٹریلین خاتون ’غیر معولی اور خطرناک‘ حالت میں ہلاک ہوئی۔

خیال رہے کہ مقامی حکام نے اپریل میں آسٹریلیا کی کریکٹو گورمے مصنوعات کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا تھا.

حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے فریزروں کو چیک کریں اور ان میں موجود فروزن پھل کو ضائع کر دیں۔

آسٹریلیا میں گذشتہ دنوں مصر کے اناج کے تقریباً 2000 پیکٹ فروخت کیے گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تازہ انار اور مقامی طور پر تیار کی گئی مصنوعات نقصان دہ نہیں ہیں۔

جنوبی آسٹریلیا کے چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر پیڈی فلپس کا کہنا ہے ’خاتون کی موت صرف اس مصنوعات سے منسلک واحد ہلاکت ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات سے متاثر ہونے والے متعدد افراد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے مزید کوئی کیس کی توقع نہیں ہے۔

ہیپاٹائٹس اے جگر پر حملہ کرتا ہے اور یہ عام طور پر منہ کے ذریعے، سیکس کرنے یا پھر آلودہ کھانے یا اشیا کو چھونے سے پھیلتا ہے۔

مقامی طبی حکام کے مطابق ہیپاٹائٹس اے کی علامات عام طور پر 15 یا 50 دنوں میں ظاہر ہوتی ہیں جس میں متلی، بخار اور جلد کا زرد ہو جانا شامل ہے۔