چائے کا کھوکھا، اسلام آباد میں نیا پاک ٹی ہاؤس‘

 

 

اسلام آباد کے آئی نائن سیکٹر کے سرے پر واقع سوئی گیس چوک سے جوں ہی آپ آئی ٹین میں داخل ہوتے ہیں تو بالکل سامنے پارک میں ایک بظاہر معمولی سا کھوکھا سامنے آ جاتا ہے، جس میں سستی پلاسٹک کی کرسیوں اور پلاسٹک ہی کی میزوں کے گرد بیٹھے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن اگر شام کے بعد وہاں جا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کھوکھا جڑواں شہروں کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔
یہاں شام ہی سے شہر بھر سے، بلکہ کبھی کبھار تو ملک کے دوسرے حصوں سے بھی معروف ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور ایک ایک کر کے جمع ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ہونے والے مکالمے، بحث – اور بعض اوقات تکرار – کی صدائیں وقتاً فوقتاً ایسی بلند ہو جاتی ہیں کہ دوسری میزوں پر بیٹھے لوگ حیرت سے مڑ کر انھیں دیکھنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے

لیکن اگر وہ غور سے یہ آوازیں سنیں تو انھیں معلوم ہو گا کہ ان میں اکثر اوقات کارل مارکس، سگمنڈ فروئڈ، ژاک دریدا، ابن العربی، امام غزالی، مولانا رومی، میر تقی میر اور انیس جیسے ناموں پر بےتکلفی سے بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔

جدید دور کے اس ‘پاک ٹی ہاؤس’ کے روحِ رواں اختر عثمان ہیں، جن کے شعری مجموعے ‘چراغ زار’ کو حال ہی میں دو بڑے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ پہلے تو انھیں خالد احمد کا ایوارڈ دیا گیا، پھر اسی ماہ کے شروع میں انھیں احمد فراز ایوارڈ کا بھی مسحق سمجھا گیا۔

اختر عثمان سورج ڈھلتے ہی آ کر اپنی مخصوص نشست سنبھال لیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ دوسرے دوست پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر کے بعد معروف نقاد اور لبرل دانشور ڈاکٹر صلاح الدین درویش بھی تشریف لے آئیں گے اور آتے ہی اپنے ٹریڈ مارک بلند آہنگ انداز میں پہلے سے جاری گفتگو میں شامل ہو جائیں گے، یا اگر کوئی بات نہ کر رہا ہو تو کوئی نیا سلسلہ شروع کر دیں گے۔

شام کے سائے گہرے ہوتے ہی ڈاکٹر سلیم سہیل بھی آ جائیں گے۔ ان کی تخصیص اردو کا داستانی اور فنتاسی ادب ہے، لیکن ادب کے دوسرے موضوعات بھی ان کی دسترس میں ہیں۔ کچھ ہی دیر گزرے گی کہ جدید نقاد ڈاکٹر فرخ ندیم، معروف شاعر منظر نقوی اور اشفاق عامر، اسلامی علوم اور عربی کے ماہر پروفیسر طاہر اسلام عسکری، لغت شناس اور فرہنگِ آصفیہ کے شریک مدون رفاقت راضی، ایڈورٹائزنگ کی دنیا سے منسلک ہمہ جہت حسن نقوی، ماہرِ قانون حیدر شاہ، بیوروکریٹ شاعر صغیر احمد اور کئی دوسرے دوست ایک ایک کر کے آتے جائیں گے اور اپنی اپنی نشستیں سنبھالتے جائیں گے۔

آج کی شام اس پنڈال میں اختر عثمان کی تازہ کتاب ‘تراش’ زیرِ بحث ہے۔ پوری کتاب ایک ہی طویل نظم پر مشتمل ہے جس میں تاریخ کے ازل سے حال تک کے سفر کے بیان کے علاوہ مستقبل کے امکانات کا بھی بھرپور تخلیقی وفور سےجائزہ لیا گیا ہے۔ یہ وہ نظم ہے جسے معروف شاعر افتخار عارف نے پچھلے دو تین عشروں کی عمدہ ترین نظموں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

نظم کا آغاز آفرینش کے لمحے سے ہوتا ہے جسے شاعر نے ‘ساعتِ صفر’ کا نام دیا ہے، اور اس کا انجام اس لمحے پر ہوتا ہے جب شاعر نئے تخلیقی امکانات بن رہا ہوتا ہے۔
نظم پر مختلف دوست احباب اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی بات آگے بڑھائی جاتی ہے یا اس پر تنقید و تنقیص کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ نظم چونکہ پیچیدہ اور مشکل ہے، اور گفتگو ماشااللہ کی روایت کے مطابق غیر رسمی ہے، اس لیے بیچ بیچ میں گفتگو پٹری سے ہٹ کر لطائف و حکایات کی دنیا میں جا پڑتی ہے۔ اس دوران چائے کے دور چلتے رہتے ہیں اور علیم بیرا، جو سب کا مزاج شناس ہو چکا ہے، کسی کے لیے میٹھی، کسی کے لیے پھیکی، کسی کے لیے ہلکی اور کسی کے لیے بہت تیز چائے لے کر آتا اور میز پر رکھتا جاتا ہے۔

ماشااللہ پر فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے کئی احباب بھی حاضری لگاتے ہیں۔ ان میں استاد فتح علی خاں کے صاحبزادے سلطان فتح علی بھی شامل ہیں۔ جب موسیقار سدا بہار شاہ اپنا کوئی شاگرد تیار کرتے ہیں اور اسے لے کر یہاں کا چکر لگا لیتے ہیں اور اس دن کھوکھے کی فضا کلاسیکی تانوں سے گونج جاتی ہے۔

فلم ساز جرار رضوی ویسے تو لاہور میں رہتے ہیں، لیکن اسلام آباد کا چکر لگے تو ماشا اللہ بھی آ بیٹھتے ہیں۔ شاعر اور فلم ساز سرمد صہبائی ان دنوں امیر خسرو پر فلم بنا رہے ہیں۔ چونکہ اختر عثمان نہ صرف خود خوش کلام فارسی شاعر ہیں، بلکہ فارسی ادب کا چلتا پھرتا قاموس بھی ہیں، اس لیے صہبائی صاحب کو نہ صرف ان سے فلم کے بارے میں قیمتی مشورے ملے، بلکہ اختر عثمان نے فلم کے لیے خسرو کی کئی غزلیں بھی اردو میں ترجمہ کر دیں۔

ادبی بیٹھکوں کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے لاہور کے مال روڈ پر واقع ‘پاک ٹی ہاؤس’ کا نام ذہن میں آتا ہے جس نے ادیبوں اور شاعروں کی کئی نسلوں کی آبیاری کی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، انتظار حسین، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی اور احمد مشتاق سمیت درجنوں مشاہیر آ کر مل بیٹھتے تھے۔

وقت کا پہیہ چلتے چلتے کچھ ایسے موڑ مڑا کہ پاک ٹی ہاؤس میں ٹائروں کی دکان کھل گئی۔ اب کہیں جا کر یہاں ادیب دوبارہ آنا شروع ہوئے ہیں مگر اب وہ پہلی سی جولانی باقی نہیں رہی۔
راولپنڈی اسلام آباد میں بھی ماضی میں مختلف ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کئی ایسی ادبی منڈلیاں جمتی رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں جو تسلسل ماشااللہ کھوکھے کو حاصل ہو گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
اس نے نہ صرف تسلیم شدہ شعرا، ادیب اور دانشوروں کو مل بیٹھنے اور اپنی بات کہنے کا پلیٹ فارم عطا کیا ہے، بلکہ یہ نئے لکھنے والوں کے لیے درس گاہ کا درجہ بھی رکھتا ہے۔ میں نے کچھ شاعر ایسے بھی دیکھے ہیں جنھوں نے یہاں آ کر اپنی پہلی غزل یا نظم سنائی اور یہیں سے ملنے والی حوصلہ افزائی کی بدولت اپنے ادبی سفر پر گامزن ہوئے۔

اس کے علاوہ اگر کوئی کتاب چھپوانے کی خواہش رکھتا ہے تو یہیں آ کر اس کے مسودے کی نقول بانٹ دیتا ہے اور اہلِ ماشااللہ چند دن میں اسے پڑھ کر ایسے مشوروں سے نوازتے ہیں کہ مسودہ چمک جاتا ہے۔
ماشااللہ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ غیر رسمی اور بلاتکلف ہونے کی وجہ سے یہاں موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔ شعر و ادب تو اپنی جگہ ہیں، فلسفہ، سائنس، مذہب، موسیقی، پینٹنگ، حتیٰ کہ سیاست اور روزمرہ واقعات، غرض کوئی بھی چیز زیرِ بحث آ سکتی ہے۔

لیکن چونکہ بولنے والے اپنے اپنے میدان میں طاق ہیں، اس لیے جلد ہی کسی بھی عامیانہ مضمون کو اپنی سطح سے بلند ہونے میں دیر نہیں لگتی اور موضوع چاہے کو ہو، اس میں اعلیٰ ادب کی شیرینی شامل ہو جاتی ہے۔