جرمن فٹبالرز کی ترکی کے صدر طیب اردگان کے ساتھ تصویر پر تنقید

 

 

جرمنی کی فٹبال فیڈریشن نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ تصاویر پوسٹ کرنے پر اپنے دو کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ترک نژاد جرمنی کے دو فٹبالرز نے لندن میں ایک ہوٹل میں ترکی کے صدر سے ملاقات کی اور انھیں اپنی دستخط کی ہوئی قیمضیں دیں۔
آرسینل کے لیے کھیلنے والے میسوت ازیل نے قمیض پر لکھا کہ ’میرے عزت ماب صدر کے لیے بہت احترام کے ساتھ۔‘
یاد رہے کہ ترکی میں جون میں ہونے والے الیکشن کے لیے صدر اردگان ان دنوں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
دوسرے جرمن کھلاڑی الیکے گوندوا مانچسٹر سٹی کی طرف سے بھی کھیلتے ہیں۔

 

یہ دونوں کھلاڑی آئندہ ماہ روس میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں اور اس عالمی کپ میں جرمنی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ترکی فٹبال کے عالمی مقابلوں کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا ہے۔

جرمنی کے کئی سیاستدانوں نے ان کھلاڑیوں کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور جرمنی کی جمہوری اقدار اور محب و وطنی پر سوالات اُٹھائے ہیں۔
جرمنی کی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ ’فٹبال اور ڈچ فٹبال فیڈریشن ان تمام اقدار کی حمایت کرتی جنھیں صدر اردگان زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
’اس لیے یہ صحیح نہیں ہے کہ ہمارے بین الاقوامی کھلاڑی اُن کی انتخابی مہم میں اپنے آپ کو استمال ہونے دیں۔‘
ڈچ فٹبال فیڈریشن کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ’ان دونوں میں سے کوئی بھی اس تصویر کی علامتی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے اور ہم اُن سے بات کریں گے۔‘
یاد رہے کہ نوے کی دہائی میں اپنی جوانی میں طیب اردگان استنبول کی ٹیم میں کھیلتے تھے۔
صدر اردگان گذشتہ 15 برسوں سے اقتدار میں ہیں اور وہ 24 جون کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ حصہ لے رہے ہیں۔
اُن کی جماعت نے مخالفین کے خلاف کریک ڈوان شروع کر رکھا ہے۔ سنہ 2016 میں ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد پولیس نے 50 ہزار سے زیادہ افراد کو گولن تحریک سے منسلک ہونے پر حراست میں لیا تھا۔
ترک نژاد جرمن رکن پارلیمان نے بھی رجب طیب اردگان کے ساتھ تصویر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’ایسے وقت میں جب جمہوریت پسند افراد اور صحافیوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے، اردگان کے ساتھ لندن کے پرتعیش ہوٹل میں تصویر کو پوسٹ کرنا اور انھیں ’میرے صدر کا خطاب دے کر عزت دینا بڑا فاؤل ہے۔‘

تنقید کے بعد الیکے گوندوا نے اپنے دفاع میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’کیا ہمیں اپنے خاندان کے آبائی ملک کے صدر کے ساتھ نرم مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟‘
گوندوا نے کہا کہ ’تنقید جو بھی ہو، ہم نے صدر کی حیثیت سے اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلق کی وجہ سے اُن کے ساتھ نرام مزاجی کا مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کہ اس تصویر کو سیاسی طور پر لیا جائے ہو۔‘