امریکہ نے اسرائیلی فوج کے اقدامات کی آزادانہ تحقیق کرانے کی قرارداد روک دی

 

 

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اب تک 55 افراد ہلاک اور 2700 زخمی ہو گئے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے ‘قتل عام’ کی شدید مذمت کی جبکہ اقوام متحدہ نے اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’انسانی حقوق کی انتہائی شرمناک پامالی قرار دیا۔’

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے تین دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے لوگوں کے خلاف قتل عام ایک بار جاری ہے۔’

 

 

 

تاہم خبر رساں اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے سلامتی کونسل کا رکن ہونے کے ناطے اپنا ویٹو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے اقدامات کی آزادانہ تحقیق کرانے کے قرارداد روک دی ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی تنظیم حماس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فلسطینیوں کے قتل کا ذمہ دار انھیں ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے خلاف صرف اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کیے کیونکہ وہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔
گذشتہ چھ ہفتے سے اسرائیل غزہ سرحد پر نئی باڑ کے خلاف جاری مظاہروں میں پیر کو سب سے زیادہ پرتشدد دن تھا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 40 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ کے ساتھ ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں شریک ہیں اور اس کے فوجی ضابطۂ کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔
نتن یاہو نے فوج کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کا تحفظ کرے۔ دہشت گرد تنظیم حماس نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور اس نے یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو سرحدی جنگلے کی طرف بھیجا۔ ہم اپنی حاکمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے عزم کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس اقدام سے امریکی انتظامیہ نے امن کے عمل میں اپنا کردار منسوخ کر دیا ہے اور دنیا، فلسطینی عوام، اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے۔‘
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں میں درجنوں فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرتے ہیں۔‘

فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وافا کے مطابق پی ایل او کی ایکزیگٹیو کمیٹی کے رکن وصل ابو یوسف نے فلسطینی علاقوں میں ’مکمل ہڑتال‘ کا اعلان کیا ہے۔
فرانس کے صدر امانوئل میکخواں نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی جارحیت کی مذمت کی ۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے ‘اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی موت’ کی شدید مذمت کی۔
ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر اس جارحیت کا مشترکہ الزام عائد کیا اور اپنے سفیر دونوں ممالک سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔
ترکی کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘اندھادھند اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔’
انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیل فوج کی جانب سے طاقت سے استعمال کی مذمت کی ہے۔
اس سے قبل یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہوا جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے وزیر سٹیو منوچن اور صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اس عمارت کے باہر نصب تختی کی نقاب کشائی کی ہے جو بیت المقدس میں عارضی طور پر امریکی سفارتخانہ بنے گی۔
اس موقع پر ایوانکا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے 45 ویں صدر کی جانب سے ہم آپ کو پہلی مرتبہ یروشلم میں امریکی سفارتخانے میں خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے سفارتخانے کے افتتاح کے بعد اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’آج تاریخ رقم ہوئی ہے۔‘ انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ، ان کی بیٹی اور داماد کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی پر ویڈیو بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بریفنگ نوٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانے کی منتقلی کے اقدام کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ نے اسرائیلی فلسطینی تنازع کے مذاکرات میں ایک حتمی پوزیشن لے لی ہے۔

وضاحتی نوٹ میں کہا گیا ہے سفارتخانے کی منتقلی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی اہم ضرورت تھی۔

 

 

امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائيل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔

خیال رہے کہ فلسطینی سفارتخانے کی منتقلی کو پورے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا ہے اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ ہو گیا ہے۔