بلوچستان: پسند کی شادی کی خواہش پر نوجوان کی دونوں آنکھیں نکال دی گئیں‘

 

 

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک نوجوان کی لڑکی کے ساتھ پسند کی شادی کی خواہش پر قریبی رشتہ داروں نے تشدد کر کے ان کی دونوں آنکھیں نکال دی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ عبدالباقی اس وقت ہیلپر ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں۔
ہسپتال میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے انہوں بتایا کہ وہ ایک لڑکی کے ساتھ پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے۔
’لڑکی اور ان کی خاندان کے تمام لوگ بھی اس کے لیے راضی تھے۔ جس پر انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں سے بھی بات کی کہ منگنی کو طے کرانے کے لیے لوگ بھیجے جائیں لیکن انہوں نے انکار کیا‘
عبدالباقی کے بقول’منگنی کے لیے میرے اصرار پر انہوں نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر بند کیا اور وہاں میرے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر تشدد شروع کیا۔‘

 

 

عبدالباقی نے بتایا کہ گھر میں ان کے علاوہ والدہ بھی تھیں۔ وہ انہیں بچانے کے لیے آ سکتی تھیں لیکن ان کو بھی کسی اور کمرے میں بند کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے بعد والد اور بھائیوں نے ان کی ایک آنکھ کو نکال دیا۔
’وہ دیکھ رہے تھے ان کی ایک آنکھ کو نکالنے کے بعد اس کو کچرہ دان میں پھینک دیا گیا۔انہوں نے دوسری آنکھ نکالنے کی کوشش شروع کی تو میں نے ان کو ہر قسم کے واسطے دیے کہ ایک آنکھ تو نکال دی کم از کم دوسری آنکھ کو چھوڑ دو لیکن وہ نہیں مانے اور میری دوسری آنکھ بھی نکال دی۔‘

عبدالباقی ان کے ہاتھوں اور پیروں پر بھی تشدد کے نشانات تھے۔ لورالائی پولیس نے مقدمہ درج کر کے نوجوان کی آنکھیں نکالنے پر ان کے والد اور دو بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔
عبدالباقی کے مطابق وہ سمجھ رہے تھے کہ والد اور بھائی منگنی طے کرانے کے لیے آمادگی ظاہر کر کے ان کی دنیا آباد کریں گے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ان کی دنیا اجاڑ دی گئی اور آنکھوں سے محروم کرکے تاریکی میں دھکیل دیا گیا ۔

ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ان کے علاج کے لیے فوری اقدام کریں۔
عبدالباقی کے سات بھائی ہیں اور ان میں سے صرف ان سے بڑا بھائی عبد الغفار ہسپتال میں ان کے ساتھ تھے۔
عبد الغفار نے بتایا کہ اس واقعہ کے وقت وہ گھر میں نہیں بلکہ خانوزئی کے علاقے میں تھے۔
’میں تین گھنٹے بعد فون پر اطلاع ملنے کے بعد گھر پہنچ گیا اور بھائی کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا۔ وہ کوئٹہ میں علاج سے مطمئن نہیں تھے مگر کوئٹہ سے باہر علاج کی سکت نہیں رکھتے۔‘