ڈبلن ٹیسٹ: وہ 26 اوور، جو فالو آن کے بعد آئے

 

 

پاکستان پہلی اننگز میں 570 رنز بنا چکا تھا اور ابھی چار وکٹیں باقی تھیں کہ مصباح الحق نے اننگز ڈکلئیر کر دی۔
آسٹریلیا حسب توقع یو اے ای کی کنڈیشنز اور پاکستانی سپن اٹیک کے آگے بے بس دکھائی دیا۔ اور صرف 261 کے ٹوٹل پہ ہی آسٹریلیا کی بساط سمٹ گئی۔
پاکستان آسٹریلیا کو فالو آن کروا سکتا تھا۔ کرکٹ میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ٹیم ایسی پوزیشن میں آئی ہو اور اس نے حریف کو فالو آن کی خفت میں مبتلا کئے بغیر جانے دیا ہو۔
لیکن مصباح الحق نے فالو آن نہ کروانے کا فیصلہ کیا اور شدید تنقید کی زد میں آئے۔ غالباً اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں ایسا کوئی موقع شاید ہی آیا ہو کہ آسٹریلیا جیسے حریف کو اس طرح کی خفت میں ڈال کر دھول چٹوائی جا سکے۔ اس لحاظ سے مصباح پہ تنقید بالکل جائز تھی۔

 

 

لیکن اس بحث میں جو بنیادی نکتہ کئی غائر نظروں سے بھی اوجھل رہ گیا، وہ یہ تھا کہ آسٹریلیا بھلے تین سو رنز کے خسارے میں تھا مگر، تب تک پاکستانی بولر عرب امارات جیسی کنڈیشنز میں 67 اوورز پھینک چکے تھے۔

اور فالو آن کروانے کا مطلب یہ تھا کہ اسی اٹیک کو لگ بھگ اتنے ہی مزید اوورز بنا کسی آرام کے پھینکنا پڑتے۔ اور بعید نہیں تھا کہ یہ تھکاوٹ آسٹریلیا کے کام آ جاتی۔
اتوار کو جب سرفراز احمد نے آئرلینڈ کو فالو آن کروانے کا فیصلہ کیا تو 16 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے کسی ٹیم کو فالو آن پہ مجبور کیا ہو۔ جس وقت سرفراز نے یہ فیصلہ کیا، تب تک پاکستانی بولر 47 اوورز پھینک چکے تھے۔

بادی النظر میں سرفراز کا یہ فیصلہ نہ صرف دلیرانہ بلکہ حقیقت پسندانہ بھی ہے۔ آج پیر کو میچ کا چوتھا دن ہے۔ میلاہائیڈ کی وکٹ بتدریج بیٹنگ کے لیے آسان ہوتی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان دوبارہ بیٹنگ کا فیصلہ کرتا تو یہ تعین بھی مشکل تھا کہ ہدف کتنا ہونا چاہئے۔

ثانیاً اگر پاکستان دوبارہ بیٹنگ کر بھی لیتا تو بھی یہ خدشہ اپنی جگہ بدستور رہتا کہ کہیں موسم اور وکٹ کی نرمی کا فائدہ اٹھا کر آئر لینڈ میچ کو ڈرا کرنے کی پوزیشن میں نہ آ جائے۔ کیونکہ فی الوقت پاکستان کو یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے، ڈرا بھی کافی رینکنگ پوائنٹس لے اڑے گا۔

لیکن، جونہی آئرلینڈ نے اپنی دوسری اننگز شروع کی، سرفراز کے فیصلے پہ شبہات اٹھنے لگے۔ یکے بعد دیگرے دونوں اوپنرز کو ایسے چانسز دے دیے گئے جنہیں سہل پسندی، سستی اور ہلکی سی تھکاوٹ کے امتزاج پہ محمول کیا جا سکتا ہے۔

محمد عامر کے چوتھے اوور میں یہ شبہات اور گہرے ہونے لگے جب وہ فیلڈ چھوڑ کر باہر جاتے نظر آئے۔
مخمصہ پاکستان کے لیے یہ بھی ہے کہ انگلینڈ سی اہم سیریز سے پہلے کیا محمد عامر کی انجری پاکستان کے لیے موزوں ہے؟ کیونکہ اگر انگلینڈ کو مدنظر رکھنا ہے تو محمد عامر کو اس میچ میں مزید بولنگ سے روک دینا چاہیے۔

لیکن اگر محمد عامر آج پیر کو فیلڈ میں نہیں اترتے تو کیا باقی چار بولر ایسی فٹنس میں ہیں کہ کل کے 73 اوورز پھینکنے کے بعد مزید تیس چالیس اچھے اوورز پھینک سکیں؟

دوسری اننگز میں پوٹرفیلڈ اور جوائس نے جیسی مزاحمت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لگتا نہیں کہ وہ کسی بھی طرح کی کوتاہی برتیں گے۔
طرہ یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ وکٹ بیٹنگ کے لیے آسان تر ہوتی جا رہی ہے۔ اچھی اننگز جوڑنے کے لیے آئرلینڈ کو صرف آج پیر کا پہلا گھنٹہ محتاط رہنا ہو گا۔
ٹیسٹ کرکٹ کیسی عجیب شے ہے! سرفراز ہی کیا، کسی نے بھی یہ سوچا تھا کہ آئرلینڈ جیسی نووارد ٹیم اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں، صرف 47 اوورز میں فالوآن کی خفت سے دوچار ہونے کے بعد بھی، بہترین پاکستانی بولنگ کے سامنے 26 اوورز بنا کسی نقصان گزار جائے گی؟