پیرس میں چاقو سے حملے میں ایک ہلاک،دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

 

 

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حکام کے مطابق ایک حملہ آور کے چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے جبکہ اس کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
تاہم نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ ان کے ’ایک جنگجو‘ نے سنیچر کی شام کو حملہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آور کو ‘اللہ اکبر’ کا نعرہ لگاتے سنا تھا۔
یہ واقعہ پیرس کے اوپرا ضلع میں پیش آیا اور حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے پانچ افراد میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
ابھی تک حملے کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت کے افراتفری پھیل گئی اور گلیوں سے لوگ ریستورانوں میں پناہ لینے کے لیے گھس گئے۔
فرانس 24 نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے پہلے ٹیزر گن کے ذریعے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکامی پر دو گولیاں مار کر اسے ہلاک کر دیا۔

 

 

پولیس نے حملے کے بعد عوام سے درخواست کی ہے کہ افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ صرف مصدقہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو شیئر کیا جائے۔
اوپرا ضلع نائٹ لائف کی وجہ سے مشہور ہے اور یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔
فرانس میں گذشتہ تین برس کے دوران ہونے والے شدت پسند حملوں کی وجہ سے سکیورٹی پہلے سے ہی ہائی الرٹ ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں ٹریبس شہر میں ایک مسلح شخص نے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور بعد میں پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔
حکام نے بتایا تھا کہ حملہ آور ہتھیاروں سے لیس تھا اور نومبر 2015 میں پیرس حملوں میں ملوث اہم حملہ آور صالح عبدالسلام کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔