ایران: کتاب میلے میں خامنہ ای کے ہاتھ میں فائر اینڈ فیوری‘

 

 

جمعے کو سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تہران میں کتابوں کے میلے میں لی گئی ایک تصویر انسٹا گرام پر دکھائی دی۔
تمام تصاویر میں کچھ ایسا غیر معمولی نہیں تھا لیکن ایک تصویر ایسی تھی جس میں وہ مائیکل وولف کی کتاب فائر اینڈ فیوری جس کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا کی ورق گردانی کر رہے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں زندگی کا نظام درہم برہم ہے۔

یاد رہے کہ تین دن پہلے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اہم لیکن بدترین موڑ آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ کیے جانے والے کثیر ملکی معاہدے سے نکال لیا ہے اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ابتدا میں ایران نے مایوسی کا اظہار کیا تھا تاہم اب اس کا ردعمل غیر رسمی انداز اپنا رہا ہے۔
اسی کتاب کے سامنے آنے پر مسٹر ٹرمپ نے اسے ’فکشن‘ اور مسٹر وولف کو فراڈ قرار دیا تھا۔
جب جنوری میں یہ کتاب شائع ہوئی تھی تو اسے ’بم شیل‘ کہا گیا اور صدر ٹرمپ کی ذہنی صحت پر تجزیہ نگاروں نے سوالات اٹھائے۔
کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ اپنے دوستوں کی بیویوں کا پیچھا کرتے ہیں۔
امریکی صدر کے اعلان کے بعد صدر روحانی کا بیان سامنے آیا کہ ایران دنیا کی دو بڑی سپر پاورز چین اور روس سے مذاکرات کرے گا۔ اور آیت اللہ خامنہ ای کی یہ تصویر حسن روحانی کی اس ٹویٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس معاہدے پر سابق امریکی صدر براک اوباما نے دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے میں امریکہ کے علاوہ فرانس، برطانیہ، روس، چین اور جرمنی بھی شامل تھے۔
بدھ کو آیت اللہ خامنہ ای نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیل سے نکل کر ’ایک بڑی غلطی‘ کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں نے پہلے دن سے کہا تھا کہ امریکہ پر بھروسہ نہ کریں۔
یہ کتب میلہ دو مئی کو شروع ہوا اور 10 مئی تک جاری رہا۔