ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

 

 

اسرائیل نے شام میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد سے دونوں طاقتور حریف ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پس منظر کیا ہے۔

سنہ 1979 کے ایرانی انقلاب جب سخت گیر مذہبی اقتدار میں آئے، کے بعد سے ایرانی رہنما اسرائیل کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران اسرائیل کے ہونے کو مسترد کرتا ہے، اور اسے مسلمانوں کی زمین کا غیر قانونی قابض سمجھتا ہے۔

اسرائیل ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس نے ہمیشہ کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیے۔ اسرائیلی رہنما مشرق وسطی میں ایرانی موجودگی بڑھنے سے خوفزدہ ہیں۔

اسرائیل اپنے پڑوسی ملک شام پر 2011 سے جاری جنگ کے بعد سے گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ سے اسرائیل دور ہی رہا ہے۔
لیکن ایران اس دوران شامی حکومت کی حمایت کرنے اور دفاعی مشیروں سمیت جنگجو بھیج کر بڑا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اسرائیل کو ایک خوف یہ بھی لاحق ہے کہ ایران خفیہ طور پر لبنان میں جو کہ اسرائیل کا پڑوسی ملک ہے اور اسے اس سے خطرہ بھی ہے جنگجوؤں کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بار بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران کو شام میں فوجی اڈہ بنانے نہیں دیں گے۔
لہذا اب جب کہ ایران شام میں کافی مظبوط ہو گیا ہے تو اسرائیل نے ایرانی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

نہیں۔ اسرائیل کو نشانہ بنانے والی تنظیموں جیسے کہ حزب اللہ اور حماس کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے۔
لیکن دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور اسرائیل کی سرحد پر بڑے پیمانے پر مسلح اتحادی موجود ہیں۔
اسرائیل کے پاس ایک طاقتور فوج ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں، اور اسے امریکہ کی زبردست حمایت بھی حاصل ہے۔