ایئر بلو کے سی ای او یا شاہد خاقان عباسی؟

سوشلستان میں فیک نیوز اور اس کے اثرات پر بحث مباحثے جاری ہیں۔ ابھی احسن اقبال کے قاتلانہ حملے جسے بعض حلقے جعلی قرار دینے کے لیے بالی وڈ سے مثالیں لا رہے تھے، پر باتیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ نیب نے پریس ریلیز جاری کیا۔ ابھی اس پریس ریلیز پر طوفان تھما نہیں تھا کہ ایک اور پریس ریلیز آ گیا جو بقول مجیب الرحمٰن شامی کے ‘عذرِ گناہ بدتراز گناہ’ کے مترادف ٹھہرا۔

اور ہفتے کے اختتام سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات بحث کا موضوع ہیں جن کا محور ایئربلو اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں۔ یہی ہمارا سوشلستان کا موضوع ہے۔
سپریم کورٹ نے شاہد خاقان عباسی کو بطور سی ای او ایئربلو کراچی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے کیس کی اگلی پیشی میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی وزیر بننے کے بعد سے اس ہوائی کمپنی میں ایسے کسی عہدے پر فائز نہیں رہے۔
جہاں اس ساری صورتحال پر سپریم کورٹ کے حوالے سے تبصرے ہو رہے ہیں وہیں سول ایوی ایشن پر بھی تنقید ہو رہی ہے کہ ملک کا ہوابازی کا نگران ادارہ حقائق سے اتنا بے خبر کیسے ہے؟
اور اس سارے معاملے پر بحث میں ایک بار پھر ‘وٹس ایپ’ کا ذکر نمایاں ہے۔
فصیح ذکا نے ٹویٹ کی کہ ‘چیف جسٹس نے وزیراعظم کو ایئربلو کے سی ای او کے حیثیت سے بلایا ہے۔ صرف طارق چوہدری ایئرلائن کے سی ای او اور ایئربلو کے بورڈ کے چیئرمین ہیں۔’
ذوالفقار احمد نے ٹویٹ کی ‘یہ مضحکہ خیز بات ہے کم از ایئربلو کی ویب سائٹ ہی چیک کرلیتے۔’
شاہد خان نے فیس بُک پر کمنٹ کیا کہ ‘یہ بات تو اب ایک عام فہم والا بھی سمجھ چکا ہے کہ عدالت عظمیٰ کن لوگوں کے اشاروں پر کام کر رہی ہے۔ مجھے ن لیگ سے کوئی ہمدردی نہیں لیکن جو کچھ ن لیگ کی لیڈر شپ کے ساتھ ہو رہا ہے یہ انصاف نہیں ہے۔’

محمد عامر شوکت نے لکھا ‘جب حضرت چیئرمین نیب کو بلانے کی بات کریں گئے۔تو اندھا قانون تو حرکت میں ائے گا۔’
اس کے ساتھ استھ اس کیس میں پیش کیے جانے حقائق پر بھی شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں بتایا گیا کہ پی آئی میں ’24 پائلٹس ایسے ہیں جن کی ڈگریاں جعلی ہیں۔’
اور یہ ابھی 200 سے کم افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے اور مزید کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
اس پر سوالات کیے جا رہے ہیں کہ آخر کیسے جعلی ڈگریوں والے افراد کو ایئرلائن نے بھرتی کیا اور اس پر اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
سلیم جاوید نے لکھا ‘ایک ملک جہاں کئی جعلی ڈگریوں والے پیشہ ورانہ اور اہم عہدوں پر تعینات ہیں جس کی وجہ اقربا پروری اور کرپشن ہے۔ اس کے بعدحیرت نہیں ہوتی کہ یہ ملک اتنا غیر فعال کیوں ہے۔’
اس ہفتے کی تصاویر