اللہ نہ کرے میری قسمت عمران جیسی ہو‘

 

 

جب سے نیب کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر چار ارب نوے کروڑ ڈالر انڈیا بھجوانے کے معاملے کی تحقیقات کی حوالے سے جاری کی گئی پریس ریلیزمیڈیا پر آئی ہے اس وقت سے وزیر اعظم سمیت حکومت وقت نے اپنی توپوں کے رخ نیب کی طرف کرلیے ہیں۔

میاں نواز شریف پہلے تو اس معاملے پر خاموش رہے لیکن آج جب احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں پیشی پر آئے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ نیب کے بارے میں ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے علیک سلیک کے بعد اُنھوں نے صحافیوں سے پوچھا کہ کیا خبریں ہیں جس پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ جی بس وہی نیب کی ہی خبریں سامنے ہیں جس میں آپ پر الزام ہے کہ آپ نے چار ارب نوے کروڑ ڈالر انڈیا بھجوائے تھے۔

مزید پڑھیے

 

 

میاں نواز شریف کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی اور انھوں نے کہا کہ ہم نے اقتدار میں آکر ساری توجہ ترقیاتی کاموں پر دی اور اس عرصے کے دوران ملٹری ڈکٹیٹر کے بنائے ہوئے نیب کے قوانین کو تبدیل کرنےپر توجہ نہ دے سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ایک فوجی آمر کے بنائے ہوئے قوانین کو تبدیل کیا جائے۔ بات مکمل کرنے کے بعد نواز شریف کے چہرے پر سنجیدگی آگئی۔
ایک صحافی نے پوچھا میاں صاحب بقول آپ کے کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں ہے تو پھر بریت کی درخواست کیوں نہیں دیتے نواز شریف کی ساتھ والی نشت پر براجماں سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کاش میاں صاحب کی قسمت بھی عمران خان جیسی ہوتی تو ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی بریت ہوجاتی۔‘

میاں نواز شریف فوری بولے کہ ’اللہ نہ کرے کہ ان کی قسمت عمران جیسی ہو۔‘
صحافی نے پوچھا کہ کیوں میاں صاحب آپ بری ہونا چاہتے جس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بریت کی نہیں بلکہ قسمت کی بات کر رہے ہیں۔
نواز شریف کے ساتھ گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی وہ بھی سوشل میڈیا پر بڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے صحافیوں کو نیب کی پریس ریلیز کے بارے میں سوشل میڈیا پر لگی ہوئی ایک پوسٹ دکھائی جس پر لکھا ہوا تھا کہ ’ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کی وجہ سامنے آگئی اور نواز شریف کو نوٹس جاری ہونے کا امکان۔‘

جب سے سابق وزیر اعظم کی سپریم کورٹ سے نااہلی ہوئی ہے اس وقت سے چیف جسٹس بھی میاں نواز شریف کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ گفتگو کے دوران وہ اُن پر تنقید کرنا نہیں بھولے اور اپنے سمدھی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت معطل کرنے کے سپریم کورٹ کے اقدام کو خلاف قانون قرار دیا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’سنا ہے کہ کل چیف جسٹس نے برتن دے مارا ہے۔‘
’انھوں نے صحافیوں سے پوچھا کہ آپ خود بتائیں کہ جو شخص برتن دے مارے وہ ملک کا چیف جسٹس ہوسکتا ہے۔‘
سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔
احاطہ عدالت میں سکیورٹی کے انتظامات پہلے سے بھی زیادہ تھے کیونکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا العزیزیہ ریفرنس میں بیان قلمبند کیا جانا تھا۔