شناخت کے بغیر فیس بک پر پوسٹنگ، پاکستانی جوڑے کی ایپ کے لیے دوسرا انعام

 

 

کیا آپ نے کبھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے کمیونٹیز صفحات میں اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پوسٹ کی ہے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ فیس بک کے پاس ایسا کوئی فیچر ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔
لیکن اب پاکستان کے ایک جوڑے نے فیس بک انتظامیہ کو یہ فیچر بنا کر دیا ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سینٹ ہوزے میں گذشتہ ہفتے فیس بک کی سالانہ تقریب ایف 8 کے ہیکاتھون مقابلے میں اسد میمن اور ان کی بیگم اذکا قیصر نے یہ فیچر بنا کر مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

 

 

فیس بک سنہ 2007 سے ہر سال ایف 8 تقریب منعقد کرتا ہے جس میں پوری دنیا سے سافٹ ویئر ڈیولیپرز شریک ہوتے ہیں۔ اسی تقریب میں فیس بک اپنے نئے فیچرز بھی جاری کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک مقابلہ بھی رکھا جاتا تھا جس میں ڈیولیپرز ایک ہی دن میں وہیں بیٹھ کر کچھ ایپلیکشن یا آئیڈیاز پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور وہیں ان پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے۔
فیس بک کے بعض حالیہ فیچرز یعنی اپنے کمنٹ میں کسی دوست کو ٹیگ کرنا، فریم کی تبدیلی یا لائیک کا آپشن ان ہی مقابلوں کا دین ہے۔
اسد میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بار مقابلے کا موضوع یہ تھا کہ جو فیس بک کمیونیٹز ہیں جہاں لوگ بحث مباحثے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں، انھیں کیسے مزید کارآمد، لوگوں کے لیے مفید بنایا جائے اور لوگوں کی شمولیت میں کس طرح اضافہ ہو۔

‘ہم نے یہ محسوس کیا ہے کہ لوگ کچھ حساس موضوعات پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا حقیقی نام سامنے نہیں لانا چاہتے۔ اس کا راستہ وہ یہ نکالتے ہیں کہ گروپس کے ایڈمن کو پیغام بھیجتے ہیں کہ ہماری طرف سے کمیونٹی کو یہ پیغام بھیج دیں کہ ہمارا یہ مسئلہ ہے اور ہمیں اس حوالے سے مشورہ چاہیے اور گروپ کا ایڈمن اس پوسٹ کو شیئر کرتا ہے۔’

اسد میمن کے مطابق یہ ایک مینوئل طریقہ کار ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ہم نے ایک خودکار ایپ بنائی، جس کے ذریعے گروپ میں ممبر خود ہی اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پوسٹ کے ذریعے اپنا مسئلہ بیان کرسکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس میں ایڈمن کو بیٹھ کر کاپی پیسٹ نہیں کرنا پڑیگا کیونکہ ‘ہم نے ایڈمن کو ایسے ٹول دے دیے ہیں کہ وہ ممبر کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پوسٹ کرسکتا ہے۔’
اسد میمن اور اذکا قیصر کو اس ایپ بنانے کا خیال فیس بک پر پاکستان کے ایک گروپ ‘سول سسٹرز’ سے آیا۔
اسد میمن کے مطابق اس گروپ میں روزانہ دس سے بیس نامعلوم پوسٹس آتی ہیں اور ان میں حساس موضوع ہوتے ہیں جیسے گھریلو تشدد وغیرہ اور اس گروپ میں موجود خواتین نہیں چاہتیں کہ وہ اپنا حقیقی نام ظاہر کریں کیونکہ اس سے ان کی ذاتی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں خیال آیا کہ پوسٹنگ کے اس طریقہ کار کو موثر بنایا جائے۔

ھیکاتھون کے اس مقابلے میں پوری دنیا سے 53 ٹیموں نے اپنے خیالات پیش کیے۔ یہ ہر ٹیم پر منحصر تھا کہ وہ کتنی بڑی ٹیم بنانا چاہتے ہیں لیکن کوئی ٹیم دس سے زیادہ افراد پر مشتمل نہ ہو۔ اسد میمن اور ان کی بیوی اذکا کی ٹیم ان دونوں پر ہی مشتمل تھی۔

اسد میمن نے بتایا کہ ایک ہال میں سب کو بٹھایا گیا اور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے 19 گھنٹے دیے گئے۔ اس عرصے میں کھانا وغیرہ بھی وہاں ہی فراہم کیا گیا۔ ھیکاتھون کا تصور بھی یہ ہے کہ آپ نے ساری رات بیٹھ کر کام کرنا ہوتا ہے اور صبح کو یہ جمع کرانا ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی آپ سو سکتے ہیں۔

اسد میمن کا تعلق حیدرآباد جبکہ اذکا کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دونوں نے کراچی کی فاسٹ یونیورسٹی سے گریجوئیشن کی ہے اور امریکہ میں سافٹ ویئر کمپنی کے مالک ہیں۔
اسد میمن کا کہنا ہے کہ ججز کی جانب سے انہیں مثبت ردعمل ملا۔
اسد نے کے مطابق انھوں نے ججز کو بتایا کہ فیس بک کمیونٹی میں انہیں یہ فیچر ڈالنا چاہیے کیونکہ یہ کئی لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہوگا اور ججز نے ان سے اتفاق کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اسے خیال کو شامل کرنے پر غور کریں گے۔